آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری
جو لفظ ہیں مہمل وہ معانی نہیں دیتے
ایک اردو غزل از طارق قمر
جو لفظ ہیں مہمل وہ معانی نہیں دیتے
کم ظرف ہیں پیاسوں کو بھی پانی نہیں دیتے
یہ عشق کبھی ان کی کہانی نہیں لکھتا
جو لوگ محبت میں جوانی نہیں دیتے
پھر اس نے نیا زخم یہی کہہ کے دیا ہے
تحفے میں کوئی چیز پرانی نہیں دیتے
گریے کے بھی آداب ہُوا کرتے ہیں اے دل !
آنکھوں کو کبھی اتنی روانی نہیں دیتے
زندہ ہیں کئی قسم کے کردار بھی مجھ میں
حالات کبھی جن کو کہانی نہیں دیتے
صدقے میں ہم اشعار تو دیدیتے ہیں طارق
لیکن کبھی اندازِ بیانی نہیں دیتے
ڈاکٹر طارق قمر لکھنئو







