- Advertisement -

صدا دیتی ہیں گلیاں، اور اپنا گھر بُلاتا ہے

ایک اردو غزل از حسن عباس رضا

صدا دیتی ہیں گلیاں، اور اپنا گھر بُلاتا ہے
مجھے شہرِ تمنّا کا ہر اک منظر بلاتا ہے

مرے سینے میں کچھ دن سے مقیم اک شخص ہے ایسا
جو خود باہر نہیں آتا، مجھے اندر بلاتا ہے

عجب ضدّی ہے، خود توسائے میں رہتا ہے، اور مجھ کو
برہنہ پاؤں تپتی دھوپ میں چھت پر بلاتا ہے

شکست و ریخت اتنی ہو چکی ہے وقت کے ہاتھوں
کہ پھر اک بار مجھ کو میرا کُوزہ گر بلاتا ہے

یہی ہے کاروبارِ جاں میں اب تک تجربہ اپنا
کہ دل جس کو صدائیں دے، اُسی کو در بلاتا ہے

حسنؔ، آؤ چلیں اُس کوچہ جاں میں، جہاں اب بھی
دریچے سے لگا کوئی، بہ چشمِ تر بلاتا ہے

حسن عباس رضا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ستیا پال آنند کی ایک اردو نظم