چمنیوں کے دھوئیں سے اٹا کینوس ایسے دھندلا گیا
پانیوں پر فلک سے اترتا ہوا چاند پتھرا گیا
وحشتوں کے پھریرے ابھرنے لگے سانس گھٹنے لگا
خواب کا دیوتا نخوت کامگاری میں سٹھیا گیا
دیکھتے دیکھتے لہلہاتے ہوئے کھیت زہرا گئے
فیکٹری سے نکلتا ہوا اژدہا گاؤں تک آ گیا
سطح تالاب پہ کب نمودار ہو دیکھیے جل پری
چاند جس کی محبت میں ڈوبا ہوا جھیل تک آ گیا
میرا سینہ دفینہ ہے اس نوجواں کا جو چلاتا تھا
گاؤں والو بڑھو گاؤں والو بڑھو آج شیر آ گیا
اپنی ٹھاٹھیں سنبھالو مری تشنگی کو بڑھاوا نہ دو
دل اگر اس طرف اک ذرا بھی پھرا تو یہ دریا گیا
عثمان علوی








