اردو غزلیاتبشیر بدرشعر و شاعری

جو ادھر سے جا رہا ہے وہی مجھ پر مہرباں ہے

اردو غزل از بشیر بدر

جو ادھر سے جا رہا ہے وہی مجھ پر مہرباں ہے
کبھی آگ پاسباں ہے کبھی دھوپ سائباں ہے

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے

وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کر دوں
وہ اگر خفا نہیں ہے تو ضرور بدگماں ہے

کبھی پا کے تجھ کو کھونا کبھی کھو کے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ ترے میرے درمیاں نہیں ہے

مرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں
وہی دکھ بھری زمین ہے وہی غم کا آسماں ہے

میں اسی گماں میں برسوں بڑا مطمئن رہا ہوں
ترا جسم بے تغیر مرا پیار جاوداں ہے

بڑی آرزو تھے مجھے سے کوئی خاک روکے کہتی
اتر آمری زمیں پر تو ہی میرا آسماں ہے

کبھی سرخ مومی شمعیں وہاں پھر سے جل سکیں گی
وہ لکھوری اینٹوں کا جو بڑا سا اک مکاں ہے

سبھی برف کے مکانوں پہ کفن بچھے ہیں لیکن
یہ دھواں بتا رہا ہے ابھی آگ بھی یہاں ہے

انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے
مجھے روک روک پوچھا ترا ہمسفر کہاں ہے

بشیر بدر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button