آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا

فیض عالم بابر کی ایک اردو غزل

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا

دل سے جو اک بار میرا ہو گیا تو ہو گیا

کیوں ندامت ہو مجھے لا اختیاری فعل پر

میں تری نظروں میں رسوا ہو گیا تو ہو گیا

کم زیادہ ہو تو سکتا ہے مگر چھٹتا نہیں

جس کو جو اک بار نشہ ہو گیا تو ہو گیا

دل بہت روتا ہے لیکن اس بت مغرور سے

منقطع ہر ایک رشتہ ہو گیا تو ہو گیا

منتقل ہوتا ہے لیکن وہ کبھی مرتا نہیں

جو صدائے کن سے پیدا ہو گیا تو ہو گیا

اپنی مرضی سے یہاں دن کاٹنے کے جرم میں

میں اگر دنیا میں تنہا ہو گیا تو ہو گیا

دیکھتا ہے کون بابرؔ کس کا کیا کردار ہے

جس سے جو منسوب قصہ ہو گیا تو ہو گیا

 

فیض عالم بابر

فیضِ عالم بابر

فیض عالم بابر کراچی کے علاقے سولجر بازار میں پیدا ہوئے ،آبائی تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے،کراچی یونیورسٹی سے گریجو یشن کرنے کے بعد شعبہ صحافت سے وابستہ ہوگئے اور کراچی کے کئی موقر روزناموں میں سب ایڈیٹر،نیوز ایڈیٹر کے طور پر فرائض انجام دیے،مختلف اخبارات،ادبی جرائد،ڈائجسٹ میں کالم،مزاح،افسانے،غزلیں نظمیں،تنقیدی مضامین لکھتے رہے ہیں، 2 شعری مجموعے :آپ کے لیے: اور :فکرکاہش: منظر عام پر آچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button