آصف الدولہاردو غزلیاتشعر و شاعری

جس دم ترے کوچے سے

آصف الدولہ کی ایک اردو غزل

جس دم ترے کوچے سے ہم آن نکلتے ہیں
ہر گام پہ دہشت سے بے جان نکلتے ہیں

یہ آن ہے اے یارو یا نوک ہے برچھی کی
یا سینے سے تیروں کے پیکان نکلتے ہیں

رندوں نے کہیں ان کی خدمت میں بے ادبی کی
جو شیخ جی مجلس سے سرسان نکلتے ہیں

یہ طفل سرشک اپنے ایسا ہو میاں بہکیں
بے طرح یہ اب گھر سے نادان نکلتے ہیں

یہ ضد ہے جنہیں یارو آ جائیں جو مشہد پر
تو تھام کے ہاتھوں سے دامان نکلتے ہیں

کس طرح غبار ان تک پہنچے گا بھلا اپنا
آصفؔ جو کبھی گھر سے خوبان نکلتے ہیں

آصف الدولہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button