آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری

جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے
آنکھ کے دشت میں دریا کا گزَر ہوتا ہے

موئے آتش پہ ٹھہرنا ہے پلک پر جیسے
نعت کہنے میں ادب تیغ سِپَر ہوتا ہے

نعت سرکار کی ایسے ہے اترتی مجھ پر
زرد ٹہنی پہ کوئی جیسے ثمَر ہوتا ہے

نیند میں ایسا بھی ہوتا ہے مرے ساتھ اکثر
آنکھ کُھلتی ہے تو سرکار کا دَر ہوتا ہے

رحمتِ حق بھی اُسی سَمْت سفر کرتی ہے
وہ رُخِ مَنْبَعِ اَنوَار جِدَھر ہوتا ہے

میری دستار کا ہر پیچ یہ کہتا ہے مجھے
لائقِ نعت سرا دار پہ سَر ہوتا ہے

اُس سے ملتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
دلِ عاشق بھی تو سرکار کا گَھر ہوتا ہے

جُز حُسَین اور حَسَن کوئی بھی سردارِ بَہِشت
ہو کے دکھلائے مری جان اگَر ہوتا ہے

میں چراغِ بنی ہاشم ہوں سو میرے گھر میں
عشقِ سرکار ہی مِیراثِ پِدَر ہوتا ہے

شعر مَرْغُوب فَرِشتوں میں اگر ہو جامؔی
پھر وہ سرکار کا مَنظُورِ نَظَر ہوتا ہے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

post bar salamurdu

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button