اردو شاعریاردو غزلیاترسا چغتائی

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا

ایک اردو غزل از رسا چغتائی

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا
اُس کے در سے اُٹھائیے سر کیا

اک معمّا ہے گنبدِ بے در
اک کہانی ہے ساتواں در کیا

شہر کا شہر سیلِ آب میں ہے
رہ میں مجھ غریب کا گھر کیا

ایک مجذوب کی ولایت میں
پتھروں سے بچائیے سر کیا

شام آتے ہی اژدھے کی طرح
سرسراتی ہے بادِ صر صر کیا

میرے اُٹھنے سے جاگ اُٹھے گا
کوئی سویا ہوا مُقدر کیا

عمر بھر گردِ رہ گزر کی طرح
کاٹیے اُس گلی کے چکر کیا

روز یادوں کے سائبان تلے
باندھیے آنسوؤں کی جھالر کیا

سر پہ کیوں آسماں مسلط ہے
قرض ہے اس زمیں کے اُوپر کیا

جو بھی اب راستے میں آ جائے
کوہ کیا، دشت کیا، سمندر کیا

پاس دارانِ حرف کے آگے
چل رہی ہے زبانِ خنجر کیا

کوئی کہتا نہیں خدا لگتی
آدمی ہو گیا ہے پتھر کیا

ان لبوں کے سوا بھی ہوتی ہے
کوئی تعریفِ مصرعۂ تر کیا

اس کھلے آسمان کے نیچے
یاد آتا نہیں رساؔ گھر کیا

رسا چغتائی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button