اردو نظمشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

اے مِلَّتِ افغان

شہزاد نیّرؔ کی اردو نظم

دیکھو تو کبھی غور سے جو حالِ وطن ہے
بارود کی بارش سے، جہاں باغ تھے، بن ہے
رنجیدہ، رواں خون سے ہر کوہ و دمن ہے
یہ دشتِ خس و خار ہی خوابوں کا چمن ہے؟
اڑتی ہے کہیں راکھ کہیں پھیلتے شعلے
سب مل کے بجھائیں تو نہیں پھیلتے شعلے
ہے یار کہاں، طالبِ آزار کہاں ہے
ڈھونڈو تو یہاں خوں کا طلب گار کہاں ہے
تخریب کہاں، امن کا معیار کہاں ہے
ہے راہ کدھر، راہ کی دیوار کہاں ہے
تم اپنی کہانی نہ کسی اور سے پوچھو
اس دور میں رہتے ہو اسی دور سے پوچھو
مٹی نے شجر جنگ کا مٹی میں لگایا
ہاتھوں نے لہو اپنے ہی جسموں کا بہایا
کس گرمیِ پیکار نے ہتھیار اٹھایا
گزرے ہیں کئی سال، نہیں امن کا سایہ
کتنے ہی برس خوں کی روانی میں گئے ہیں
جو خواب تھے سب آنکھ کے پانی میں گئے ہیں
قندوز نے پوچھا کبھی قندھار نے پوچھا
ہے امن کہاں، کابلِ خوں بار نے پوچھا
اپنوں نے پکارا کبھی اغیار نے پوچھا
مڑ مڑ کے یہی چشمِ الم دار نے پوچھا
وہ حسنِ درخشاں کی تب و تاب کہاں ہے
وہ عِلمِ منور کا کھلا باب کہاں ہے
کہتا ہے تمہیں جنگ کا بہتا ہوا دھارا
طُوفانِ جدل سے ہے بہت دور کنارہ
ہر گام رواں موجِ لہو نے بھی پکارا
ہے دوست کی آواز بھی ساحل کا اشارہ
جینے کی روش، رَاہِ اُخوَّت سے نکالو
مخلوق کو غربت کی صعوبت سے نکالو

شہزاد نیّرؔ 

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

۲ تبصرے

ناصر ملک کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button