اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

سبھی نقوش غلط خال و خد بلا کے خراب

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

سبھی نقوش غلط خال و خد بلا کے خراب
مجھے وہ ٹھیک نہیں کر سکا بنا کے خراب

مجھے پسند ہے ہر شے جو میرے جیسی ہو
سو اچھی چیز میں رکھ آتی ہوں اٹھا کے خراب

بس ایک بار ہی کافی ہے زندگی کہ خدا
پھر اس جہان میں ہونا ہے کس کو آ کے خراب

تو اک چراغ جلا آؤ شب کی چوکھٹ پر
اگر مزاج نہیں لگ رہے ہوا کے خراب

ہر ایک کام مکمل توجہ چاہتا ہے
تبھی تو خود کو کیا خوب دل لگا کے خراب

تضاد قول و عمل اور فریب لہجوں میں
یہ لوگ دیکھنے میں ہی تھے انتہا کے خراب

میں سب سے خوش نما پتھر تھی تجھ عمارت کا
سو تو نے خود کو کیا ہے مجھے ہٹا کے خراب

تمہارا دکھ ہے کہ تم بھی بنا دئے گئے ہو
ہمارا کیا ہے کہ ہم لوگ تھے سدا کے خراب

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button