آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری

باتوں ہی باتوں میں

نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل

باتوں ہی باتوں میں تیرا ذکر لاتے ہیں شوق سے
میرے دوست میرا صبر آزماتے ہیں شوق سے

تم اپنے عہد کی تکمیل میں لُٹ جاتی ہو
یہاں لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں شوق سے

وہ داستاں جو ادھوری چھوڑی تھی ہم نے
اب بدلتے ہوئے موسم سناتے ہیں شوق سے

سنو ! اپنے دل کی فصیلیں ذرا مضبوط رکھنا
اس شہر میں افواہیں اُڑاتے ہیں شوق سے

ہم ہر شجر کو ثمر بخشنے والے اکثر
اپنی ہی زندگی پر خاک اُڑاتے ہیں شوق سے

کم سنی کی نادانی میں دیکھے ہوئے خواب
ٹوٹ کر عمر بھر جگاتے ہیں شوق سے

نگارؔ حرفِ وفا ہم نے یوں نبھایا ہے
کہ زخم دل کے سب دکھاتے ہیں شوق سے

نگار فاطمہ انصاری

post bar salamurdu

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button