اردو غزلیاتدلاور علی آزرشعر و شاعری

نئی ترتیب میں لایا گیا مَیں

دلاور علی آزر کی اردو غزل

نئی ترتیب میں لایا گیا مَیں
قصیدہ تھا ، سو دہرایا گیا مَیں

غزل کا بھید پوشیدہ تھا مجھ میں
کسی مقطع میں رکھوایا گیا مَیں

کوئی کیسے مرا اِنکار کرتا
تِرے ہونٹوں سے فرمایا گیا مَیں

ہوائے زیست ایسی چل رہی تھی
کَل اُس جانب بھی گھبرایا گیا مَیں

وہ شب الہام کی شب تھی سو یارو
کسی معبد میں ٹھہرایا گیا مَیں

میں جھونکا تھا کوئی تازہ ہوا کا
ذرا جلدی میں ہی آیا گیا مَیں

ہُوا تھا جس کے ہاتھوں قتل آزر
اُسی کے ہاتھ نہلایا گیا مَیں

دلاور علی آزر 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button