- Advertisement -

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!

میمونہ احمد کا اردو افسانہ

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!

مدنی پارک میں صبح صبح خوب چہل پہل ہوتی ہے،اور پھر یہ سردیوں کے دن ہیں تو بزرگ اور نوجوان خوب بھا گ رہے ہوتے ہیں جن میں بزرگ نوجوانوں سے بازی لے جاتے ہیں، مدنی پارک میں اساتذہ کی تعداد بھی کافی ہوتی ہے اور ان بزرگوں کی جو سرکاری ملازمت کی مدت پوری کر چکے ہوتے ہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ مدنی پارک ان کا وہ ٹھکانہ ہیں جہاں وہ اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور دوسروں کے ماضی کی سنتے ہیں،
سلیمان اور اس کے والد خلیل احمد دونوں اس پارک میں روز آتے ہیں اور دونوں با پ بیٹا اکھٹے بھاگتے ہیں لیکن ہمیشہ سلیمان کے والد خلیل احمد اس سے بازی لے جاتے ہیں۔(یہ پھر سلیمان جان بوجھ کر ہار جاتا ہے) دیکھا بیٹا سیلمان ہم بزرگوں میں آج بھی کتنا دم ہے،جی ابو، اب ہم لوگوں میں واقعی اتنا دم نہیں کہ تھوڑی دور بھاگ سکیں۔خلیل احمد اپنے بیٹے کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے بیٹا اپنی صحت کا خیال رکھا کرو، ہمیشہ میری فکر میں ہی رہتے ہو۔۔۔ابو جی اب چھوڑیے ایک اور چکر پورا کرنا ہے ابھی اس پارک کا اور وہ دیکھے آپ کاسورج بھی نکل رہا جلدی کریں آفس والوں نے مجھے آج تو نکال دینا ہے،
ٹھیک ہے بیٹا!
سلیمان ایک چکر پورا کرنے کے بعد اپنے آفس کو چل پڑا جبکہ خلیل احمد پارک میں ہی رہا اس کا شاپر شاکر کیفے پر رکھا تھا جس کو وہ اُٹھانے چل دیا،ابھی پارک میں رونق کم تھی چند ہی لوگ تھے لیکن اب آہستہ آہستہ آتے جا رہے تھے،شاکر شاکر ؟ یار وہ میرا شاپر تو دے دو۔۔۔! یہ رہی آپ کی امانت لے لیجیے،شکریہ بیٹا جیتے رہو اللہ خوب ترقی دے جگ جگ جیو۔ شاکر نے کو ئی الفا ظ تو نہیں کہے لیکن اس کی آنکھیں خلیل احمد کا شکریہ ادا کر رہی تھی، جنھیں خلیل احمد نے بخوبی پڑھ لیا، شاکر بیٹا تیری آنکھیں بولنے لگی ہے،
انکل جی آنکھیں تو بولتی ہی ہیں پڑھنے والوں کی کمی ہے آپ کے شہر میں !
بیٹا لگتا ہے تجھ پر ہم بزرگوں کا اثر ہو گیا ہے، ہاں انکل شائد میں خود بوڑھا ہو گیا ہوں !
اچھا بیٹا میں ذرا ان پرندوں کو باجرہ ڈال آؤں، مدنی پارک میں تقریباً تمام بزرگوں کا یہ معمول ہے کہ وہ پرندوں کو اور کتوں کی خوراک ضرور لے کر آتے ہیں (یہ بھی شائد ایک مصروفیت ہی ہے) خلیل احمد اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ چکے تھے، کوے چڑیا فاختہ سب خلیل احمد کو دیکھ کر بینچ کے پاس آ گئے تھے،خلیل احمد کافی دیر تک دانہ ڈالتے رہے اور پرندے کھا تے رہے، جب خلیل احمد کا شاپر خالی ہو گیا تو وہ اس بینچ پر بیٹھ گئے اور ان پرندوں کو دیکھتے رہے اور ایک اطمینان ان کے چہرے پر پھیل گیا۔۔۔ خلیل احمد کے دوست احباب سب آنے لگے تھے اور دروازے سے ہی خلیل خلیل پکارتے ، خلیل احمد نے کھڑے ہو کر انھیں بتایا کے اس طرف آ جا ؤ۔ حاکم علی خلیل احمد کا بہت پرانا دوست ہے دونوں نے اکٹھے ایک سکول سے میڑک کیا، اور سرکاری ملازمت جیسے ہی ختم ہوئی انھوں نے اپنے ڈیرے اس مدنی پارک میں ڈال لیے، ہاں بھی حاکم علی تو نے آج دیر کر دی، ہاں یا ر میرا کتا بیمار ہو گیا تھا اس کے لیے دوائی لایا اس کو دی پھر تیرے پا س آ گیا۔ اوہ خیر تے ہے مجھے لگتا ہے سردی لگ گئی ہے اس کو، ہاں یار خلیل مجھے بھی یہی لگتا ہے اللہ میرے کتے پر مہربانی کرے گا جلدی ٹھیک ہو جائے گا، حاکم علی نے رونی صورت بنا کر کہا، یار حاکم تو آج بھی چھوٹی باتوں کے لیے پریشان ہو جاتا ہے، یار خلیل میں چھوٹی باتوں کو ہی تو زندگی سمجھتاہوں، اب اس کتے کو میں نے پال پو س کر بڑا کیا ہے اپنی اولاد کی طرح اس کی دیکھ بھا ل کی ہے،اب اولاد تو نصیب میں نہیں تھی تو سوچا کہ میں اس کتے کو پال لیتا ہوں،آج جب میں اکیلے آ رہا تھا تو میں نے اپنے کتے کی کمی کو بہت محسو س کیا۔۔۔۔اللہ نا کرئے کے اسے کچھ ہو جائے۔۔۔
چل فکر نہ کر تیرا کتا جلدی ٹھیک ہو جا گے گا۔۔!
تو اپنی سنا تیرا بیٹا نہیں آیا آج ؟ آیا تھا یار مجھے چھوڑ کے پھر ہی تو آفس گیا ہے۔ ہاں یار میں بھول گیا،پریشانی میں یا د ہی نہیں رہا۔ اللہ زندگی لمبی کرئے تیرے پتر کی بڑا نصیبوں والا ہے تو نے اس کی پرورش بھی تو خوب کی ہے۔۔ یار پرورش تو والدین کرتے ہی ہیں اب یہ اولاد کی سوچ ہوتی ہے کہ وہ نیکی اختیار کرے یا بدی۔۔ درست کہتا ہے تو ۔
چل کیفے پے چلتے ہیں چائے لیتے ہیں۔ ہاں یار چل !
مدنی پارک کی رونق عروج پر پہنچ گئی تھی خلیل احمد اور حاکم علی دونوں اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ شاکر اپنے کیفے پر مصروف تھا۔۔ سلیمان شام کو روز کی طرح ۶ بجے گھر آتا تھا آج بھی آ گیا۔وہ اور اس کے ابو دو ہی مکین تھے اس سلیمان منزل کے، کیونکہ سلیمان کی امی کافی عرصہ پہلے وفات پا چکی تھی اس لیے یہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے تھے۔ دوپہر کو خلیل احمد کھانا بناتے تھے۔ شام کو اور صبح کو سلیمان خود بناتا تھا۔ بس تم ٹھیک ٹھاک ہی بناتے ہو کھا نا سلیمان۔ میرے ہاتھ میں جو ذائقہ ہے وہ تمھارے پاس کہاں خلیل احمد نے اونچی آواز میں کہا جو کہ سلیمان نے بہت آسانی سے سن لی تھی۔ ابو جی میں بھی تو اچھا کھانا بنا لیتا ہوں آپ سے تو میں بھی اچھا بناتا ہوں۔ ارے یار تجھے کیا پتا ذائقہ کہتے کس کو ہے،کبھی ذرا باجرے کی روٹی کھانا تم اور ساتھ میں میرا بنا یا ہوا ساگ واہ مزا آ جائے گا تجھے، چلیں تو پھر کسی دن آپ بنا لینا نا پھر مل کر کھا ئیں گے، حاکم انکل کو بھی بلا لیجیے گا، ارے حاکم کیا یا د کرا دیا تم نے یا ر مجھے اس کے پا س لے چلو بڑا پریشان تھا آج وہ، ہاں ہاں کیوں نہیں ویسے خیریت ہے؟
ہاں بیٹا خیریت ہے ! بس حاکم علی کا کتا بیمار تھا چلو دیکھ آتا ہوں وہ کیساہے۔ٹھیک ہے ابو جی چلیں۔ دونوں پیدل ہی چلتے ہیں کیونکہ ایک دو گلی چھوڑ کے ہی تو حاکم علی کا گھر آ جا تا ہے۔ حاکم علی اوئے حاکم علی کدھر ہے تو؟
سامنے برآمدے میں ہی وہ افسردہ سانظر آ جا تا ہے۔
کیا ہوا ہے حاکم علی تیرا کتا کدھر ہے اب اس کی طبیعت کیسی ہے، حاکم علی کی آنکھوں میں آنسو تھے،یار ہمارے بڑے کہتے تھے کتے بڑے وفادار ہوتے ہیں لیکن یہ کیا یار میرا کتا تو بڑا بے وفا نکلا!!!!
مجھے چھوڑ گیا وہ دیکھ کیسے زندگی کے بغیر پڑا ہے۔

میمونہ احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بیاءجی کی کتاب پی ڈی ایف میں پڑھیں