- Advertisement -

 جائزہ

تسلیم اکرام کی اردو نظم

 جائزہ
بات دل جلانےکی
بے وجہ ستانےکی
زخمِ دل لگانے کی
اور مجھے گرانےکی
اپنا یا پرایا ہو
دوست ہو یا دشمن ہو
سالِ نو ہو یا کوئی
زندگی کا گزرا پل

کچھ منافقوں کےساتھ
حاسدوں کے گھیرے میں
طنزیہ نگاہوں میں
مارِ آستیں ہیں جو
غرض کے پجاری ہیں

وقت اب بھی گزرے گا
میرا ایک جیسا ہی

ھاں مگر……..
مقدر نے
مجھ کو چند ایسے لوگ
بخش کر
جو ہیں دل کے سچے
اور پیار کرنے والے ہیں
اب مجھے یقیں ہے
ان کے ساتھ میرا
وقت خوب گزرے گا
اور یہ برس آخر
مجھ پہ مہرباں ہو گا

تسلیم اکرام

  1. طارق اقبال حاوی کہتے ہیں

    بہت خوووووب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
علامہ اقبال کی ایک نظم