آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ
میں نے بدل کے دیکھ لیا ہے مزاج تک
کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
میں نے بدل کے دیکھ لیا ہے مزاج تک
مجھ پر یقیں نہ آیا کسی کو بھی آج تک
اک تو کہ تجھ سے اپنی انا ٹوٹ نہ سکی
اک ہم کہ ہم نے توڑ دئیے ہیں رواج تک
دکھ درد کے بغیر بھی مشکل ہے زندگی
میں خوش ہوں اس زمین پہ گریے کے راج تک
یہ کارِ یادِ یار توجہ تھا مانگتا
سو ترک کر کے بیٹھے رہے کام کاج تک
کب تک ترا غرور سلامت رہے گا دوست
دیکھے گئے الٹتے ہوئے تخت و تاج تک
میرے تو گھر کے لوگ بھی میرے نہیں ہوئے
تیرے تو ساتھ ساتھ رہا ہے سماج تک
میں خود کو کہہ رہی تھی مکینِ مکانِ دل
لیکن نہ تھا کہیں پہ مرا اندارج تک
کومل جوئیہ








