- Advertisement -

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
تتلی ملی حنوط پرانی کتاب میں

دیکھوں گا کس طرح سے کسی کو عذاب میں
سب کے گناہ ڈال دے میرے حساب میں

پھر بے وفا کو بحرِ محبت سمجھ لیا
پھر دل کی ناؤ ڈوب گئی ہے سراب میں

پہلے گلاب اس میں دکھائی دیا مجھے
اب وہ مجھے دکھائی دیا ہے گلاب میں

وہ رنگِ آتشیں، وہ دہکتا ہوا شباب
چہرے نے جیسے آگ لگا دی نقاب میں

بارش نے اپنا عکس کہیں دیکھنا نہ ہو
کیوں آئینے ابھرنے لگے ہیں حباب میں

گردش کی تیزیوں نے اسے نور کر دیا
مٹی چمک رہی ہے یہی آفتاب میں

اس سنگدل کو میں نے پکارا تو تھا عدیم
اپنی صدا ہی لوٹ کر آئی جواب میں

عدیم ہاشمی 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عدیم ہاشمی کی اردو غزل