سلام اردو سپیشل

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون کیوں؟

تحریر: منیب الرحمن عارفیؔ

ہم سب نے اپنے اردگرد ایسے مناظر ضرور دیکھے ہوں گے کہ بچہ بے چین ہوا تو اس کے ہاتھ میں فون دے دیا گیا، اس نے کھانا کھانے سے انکار کیا تو موبائل پر ویڈیو چلا دی گئی، والدین کو کچھ دیر سکون درکار تھا تو بچے کو اسکرین کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ چند ہی لمحوں میں بچہ خاموش ہو جاتا ہے، گھر میں سکون محسوس ہونے لگتا ہے اور والدین اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک آسان اور فوری حل معلوم ہوتا ہے، مگر اس موقع پر ایک اہم سوال ضرور پوچھنا چاہیے: کیا اسمارٹ فون واقعی بچے کی تعلیم اور تربیت میں مدد دے رہا ہے، یا صرف وقتی طور پر اسے خاموش رکھنے کا ذریعہ بن گیا ہے؟

ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری چیز نہیں۔ ایک بچہ تعلیمی ویڈیوز، زبان سیکھنے کے پروگراموں، قرآنِ کریم کی تعلیم، معلوماتی دستاویزی فلموں اور عمر کے مطابق منتخب کیے گئے مواد سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ لیکن کسی مقصد کے تحت ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور بچے کے ہاتھ میں بلا روک ٹوک اسمارٹ فون دے دینے میں بہت فرق ہے۔ اگر کوئی مفید ویڈیو واقعی بچے کے لیے ضروری ہو تو والدین اسے خود منتخب کر سکتے ہیں، کسی مشترکہ اسکرین یا ٹیلی وژن پر چلا سکتے ہیں اور بچے کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ دیر بعد اسکرین بند کرکے معمول کی زندگی کی طرف واپس آیا جا سکتا ہے۔ بچے کو سیکھنے کے لیے لازماً ایک ذاتی تفریحی آلہ ہاتھ میں دینے کی ضرورت نہیں۔

کم عمر بچے کو صرف مسلسل تفریح نہیں، ایک حقیقی بچپن درکار ہوتا ہے۔ اسے دوڑنے، کھیلنے، سوال پوچھنے، چیزیں بنانے، رنگ بھرنے، کتابیں دیکھنے، بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے، گھر اور باغ میں چیزوں کو دریافت کرنے اور کبھی کبھار شرارت یا گندگی کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو کچھ وقت کے لیے بور ہونے دینا بھی اس کی ذہنی نشوونما کا حصہ ہے، کیونکہ اسی کیفیت میں وہ اپنی مصروفیت خود تلاش کرنا، تخیل استعمال کرنا اور نئے کھیل یا سرگرمیاں ایجاد کرنا سیکھتا ہے۔

جب ہر لمحۂ فراغت اور ہر معمولی بے چینی کو اسکرین سے ختم کر دیا جائے تو بچے کو انتظار کرنا، اپنے جذبات سنبھالنا، اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا اور خود کو مصروف رکھنا سیکھنے کے مواقع نہیں ملتے۔ خاموش بیٹھا ہوا بچہ لازماً بہتر ذہنی نشوونما پانے والا بچہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ صرف ایسا بچہ ہوتا ہے جس کی مکمل توجہ ایک اسکرین نے اپنی گرفت میں لے رکھی ہوتی ہے۔

والدین اکثر کہتے ہیں کہ ان کا بچہ فون نہ ملنے پر رونے، چیخنے یا ضد کرنے لگتا ہے۔ یہاں بچے کی حقیقی ضرورت اور اس کی بن جانے والی توقع میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر بچہ ہر مرتبہ رونے، شور کرنے یا غصہ دکھانے کے بعد فون حاصل کر لیتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک سادہ سا تعلق قائم ہو جاتا ہے: احتجاج کرنے سے فون مل جاتا ہے۔ اس طرح والدین غیر ارادی طور پر اسی رویے کو مضبوط کر دیتے ہیں جسے وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کے جذبات کو نظرانداز کیا جائے یا اس کے ساتھ سختی کی جائے۔ بچے کو محبت، تسلی اور والدین کی قربت کی ضرورت ہوتی ہے، مگر تسلی کا ذریعہ ہمیشہ اسمارٹ فون نہیں ہونا چاہیے۔ والدین نرمی سے بچے کی کیفیت کو تسلیم کرتے ہوئے حد قائم رکھ سکتے ہیں کہ فون کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب وہ کھلونوں، رنگوں، کتاب یا والدین کے ساتھ کسی سرگرمی میں سے ایک چیز منتخب کر سکتا ہے۔ ابتدا میں بچہ احتجاج کرے گا، لیکن مسلسل مزاجی بہت اہم ہے۔ جو حد بچے کے روتے ہی ختم ہو جائے، وہ حقیقت میں حد نہیں رہتی۔

آج اسمارٹ فون بچوں کے لیے ایک طرح کا ڈیجیٹل چپ کرانے والا آلہ بنتا جا رہا ہے۔ ریسٹورنٹ میں انتظار کرنا ہو تو فون، سفر میں بیٹھنا ہو تو فون، کھانا کھلانا ہو تو فون، بچہ رو رہا ہو تو فون، گھر میں مہمان آئے ہوں تو فون، اور اگر دس منٹ کے لیے کوئی سرگرمی نہ ہو تو بھی فون۔ اگر ہر غیر آرام دہ یا خالی لمحہ فوراً ڈیجیٹل تفریح سے بھر دیا جائے تو بچہ انتظار، گفتگو، مشاہدے، تخیل اور خاموشی کا تجربہ کب کرے گا؟ بچے کو یہ سیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ بوریت کوئی ناقابلِ برداشت کیفیت نہیں۔ کئی مرتبہ تخلیقی سوچ کا آغاز اسی بوریت سے ہوتا ہے۔

بعض والدین اسکرین کے زیادہ استعمال کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ بچہ تعلیمی ویڈیوز دیکھتا ہے۔ تعلیمی مواد یقیناً فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن صرف کسی ویڈیو پر تعلیمی عنوان لکھا ہونا تمام حدود ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بچے نے اس ویڈیو سے کیا سیکھا، کیا وہ دیکھی ہوئی بات کو اپنے الفاظ میں بیان کر سکتا ہے، کیا والدین نے اس کے ساتھ اس پر گفتگو کی، اور کیا اسکرین پر دیکھی گئی چیز کو کسی حقیقی سرگرمی سے جوڑا گیا؟ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں ایک تعلیمی ویڈیو خودکار طور پر چلنے والی بے شمار غیر ضروری ویڈیوز میں تو تبدیل نہیں ہو گئی۔ مقصد اسکرین ٹائم کو صرف تعلیمی ظاہر کرنا نہیں بلکہ بچے کو حقیقتاً کچھ سکھانا ہونا چاہیے۔

کم عمر بچوں کے اسکرین استعمال میں والدین کی شمولیت بہت اہم ہے۔ بچے کو فون دے کر الگ ہو جانے کے بجائے جہاں ممکن ہو، اس کے ساتھ بیٹھ کر مواد دیکھا جائے۔ ویڈیو کو روک کر سوال کیا جا سکتا ہے کہ کہانی میں کیا ہوا، کسی کردار نے ایسا کیوں کیا، دکھائی دینے والی چیز کا رنگ کیا ہے، اور کیا ایسی کوئی چیز گھر میں بھی موجود ہے۔ اس طرح محض خاموشی سے اسکرین دیکھنے کا عمل گفتگو، مشاہدے اور سیکھنے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ جب بچے کو اسکرین پر دیکھی ہوئی چیز حقیقی دنیا سے جوڑنے میں مدد ملتی ہے تو ٹیکنالوجی صرف تفریح نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ تعلیمی وسیلہ بن سکتی ہے۔

بچے کے کمرے کو ایک پوشیدہ ڈیجیٹل دنیا میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اسمارٹ فون صرف ٹیلی وژن نہیں، بلکہ ویڈیوز، اشتہارات، گیمز، پیغامات، اجنبی لوگوں، نامناسب مواد اور خودکار طور پر تجویز کی جانے والی لامتناہی چیزوں کا دروازہ بھی ہے۔ ایک کم عمر بچے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس پیچیدہ ماحول میں کسی بالغ انسان جیسی سمجھ بوجھ اور فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرے گا۔ بچے کی نگرانی کرنا اس پر بداعتمادی نہیں بلکہ والدین کی ذمہ داری ہے۔

گھر کے بعض اوقات اور مقامات کو اسکرین سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ کھانے کا وقت اہلِ خانہ کے درمیان گفتگو، تعلق اور ایک دوسرے کو سننے کا موقع ہونا چاہیے۔ سونے سے پہلے بچے کے ذہن اور جسم کو سکون کی طرف آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیل کے وقت حقیقی حرکت، تخیل اور دوسروں کے ساتھ رابطہ ہونا چاہیے۔ اگر کھانے، کھیلنے اور سونے تک ہر سرگرمی فون سے وابستہ ہو جائے تو بچہ ان معمولات کو اسکرین کے بغیر انجام دینا مشکل سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے کھانے کی میز، سونے سے پہلے کا وقت اور بچے کا کمرہ حتی الامکان اسمارٹ فون سے آزاد رکھنا بہتر ہے۔

صرف فون چھین لینا ہمیشہ دیرپا حل نہیں ہوتا۔ اگر اسکرین ہٹائی جائے تو بچے کے ماحول میں اس کا بہتر متبادل بھی ہونا چاہیے۔ کتابیں، کہانیاں، پزل، بلاکس، رنگ بھرنا، سائیکل چلانا، فٹ بال کھیلنا، باغبانی، باورچی خانے میں چھوٹی ذمہ داریاں، دست کاری، گھر کے کھیل، بزرگوں سے گفتگو اور کھلی فضا میں سرگرمیاں بچے کو حقیقی دنیا سے جوڑتی ہیں۔ غیر منظم کھیل بھی بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں ہر چیز پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی اور بچے کو خود سوچنے، فیصلہ کرنے اور کھیل کا طریقہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔

یہاں والدین کو اپنے اسمارٹ فون کے استعمال پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اگر والد کھانے کے دوران مسلسل فون دیکھتے رہیں، والدہ بچے کی بات سنتے ہوئے اسکرین پر مصروف رہیں اور گھر کے ہر خاموش لمحے میں بڑے لوگ موبائل اٹھا لیں تو بچہ ایک بہت مضبوط پیغام حاصل کرتا ہے کہ سامنے موجود انسانوں کے مقابلے میں فون زیادہ توجہ کا حق دار ہے۔ بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ مشاہدے سے بھی سیکھتے ہیں۔ والدین جس ڈیجیٹل نظم و ضبط پر خود عمل نہ کریں، اس کا مطالبہ بچے سے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

محبت کا مطلب بچے کی ہر خواہش پوری کرنا نہیں۔ بچوں کو شفقت کے ساتھ حدود، آزادی کے ساتھ نگرانی، تفریح کے ساتھ بوریت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ حقیقی زندگی بھی درکار ہوتی ہے۔ کسی حد کے قائم ہونے پر بچے کا ناراض ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حد غلط ہے۔ والدین کو نہ ہر اختلاف کو سزا میں بدلنا چاہیے اور نہ ہر ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ لہجہ پُرسکون، رویہ محبت بھرا اور اصول مستقل رہیں۔

اسمارٹ فون کے بارے میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بچہ کتنے منٹ اسکرین دیکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسکرین کس چیز کی جگہ لے رہی ہے۔ سفر کے دوران تیس منٹ کا سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا مواد ایک الگ صورت ہے، لیکن کئی گھنٹوں کی تفریح اگر کھیل، نیند، مطالعے، گفتگو، تخلیقی سرگرمی اور خاندانی تعلق کی جگہ لے لے تو اس کے اثرات مختلف ہوں گے۔ اس لیے اسکرین کے استعمال کو صرف گھڑی سے نہیں ناپا جا سکتا۔ بچے کی عمر، مواد کی نوعیت، استعمال کا مقصد، والدین کی شمولیت اور اسکرین کے سبب چھوٹ جانے والی سرگرمیاں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔

بچے کو فون دینے سے پہلے چند لمحے رک کر سوچنا چاہیے کہ فون کیوں دیا جا رہا ہے، بچہ اس پر کیا دیکھے گا، کیا اس کا کوئی بہتر حقیقی متبادل موجود ہے، کیا والدین کو معلوم رہے گا کہ بچہ کس مواد تک پہنچ رہا ہے، اور کیا فون واقعی بچے کے فائدے کے لیے دیا جا رہا ہے یا صرف وقتی خاموشی حاصل کرنے کے لیے؟ بعض مواقع پر ٹیکنالوجی کا استعمال مفید اور مناسب ہوگا، لیکن ہر موقع پر نہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آج کل کے بچے بہت مشکل ہو گئے ہیں، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچپن ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھتا ہے جس کی تشکیل بڑی حد تک بڑوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یقیناً والدین ہر اثر کو قابو نہیں کر سکتے۔ اسکول، دوست، معاشرہ، اشتہارات اور انٹرنیٹ بھی بچے پر اثر ڈالتے ہیں، اس لیے بچے کے ہر مسئلے کی ذمہ داری صرف والدین پر ڈالنا درست نہیں۔ اس کے باوجود گھر کے معمولات، تربیتی حدود اور بڑوں کا عملی نمونہ بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

یہ والدین ہی طے کرتے ہیں کہ گھر میں کیا داخل ہوگا، کھانے کا وقت گفتگو میں گزرے گا یا ویڈیوز دیکھنے میں، بچے کی بوریت فوراً فون سے ختم کر دی جائے گی یا اسے اپنے تخیل کے استعمال کا موقع ملے گا، اور ٹیکنالوجی خاندان کے قابو میں ایک مفید ذریعہ رہے گی یا رفتہ رفتہ پورے خاندان کو اپنے قابو میں لے لے گی۔

اسمارٹ فون علم اور تعلیم کا غیر معمولی وسیلہ بن سکتا ہے، لیکن بچپن اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ بچوں کو گفتگو، کتابیں، کہانیاں، ذمہ داریاں، کھلی فضا میں کھیل، واضح حدود اور سب سے بڑھ کر والدین کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی واقعی کوئی مفید اضافہ کرے، وہاں اسے سوچ سمجھ کر، والدین کی موجودگی میں اور مناسب حدود کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کسی کم عمر بچے کے ہاتھ میں صرف اپنی آسانی اور خاموشی کی خاطر اسمارٹ فون دے دینا مناسب نہیں۔

بچوں کا شور، ان کے سوالات، ہنسی، شرارتیں، دوڑنا، کھیلنا اور ہر چیز کو جاننے کی خواہش کبھی کبھی بڑوں کو تھکا دیتی ہے، مگر یہ سب بچپن میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی سب کچھ بچپن ہے

post bar salamurdu

منیب الرحمن عارفی

منیب عارفی، مانسہرہ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف مصنف ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے نیشنل یوتھ ٹیلنٹ پاکستان قائم کیا۔ وہ عام طور پر نوجوانوں، تعلیم، والدین، پاکستانی معاشرے اور نئے ہنر کے بارے میں لکھتے ہیں، اور ان کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button