- Advertisement -

چل چھوڑ محبت کی باتیں

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

چل چھوڑمحبت کی باتیں اب ماند پڑے ہیں عنصر سب
کر ضبط تُواپنے اشکوں کو ہیں گھات میں تیرے یاور سب

تُو ہجرکی سُولی چڑھ جا اور جشن منا بربادی کا
کر چاک گریباں پھر اپنا بن قیس اُٹھا تُومحشر سب

جس سمت کوبھی تُوجاٸے گا ہرسمت ملیں گےدیوانے
چھ سات کھڑےخاموشی سےکچھ حال بناٸےابترسب

جوعشق کمانےآٸےتھےوہ قیس کےپیچھےچل نہ سکے
فرہادنےنہریں کھودی تھیں یہ عزم میں ٹھہرے اصغر سب

جب رات بھی کالی کالی ہو اور چاند بھی گہراگہرا ہو
تب ہارکی ناگن ڈستی ہےجب جیت کےہاریں منظر سب

جب راگ محبت کےسن کےوہ خار بچھادیں رستے میں
تُوآنکھ سےاپنی چُن دینایہ کام بڑے ہیں اکبر سب

ڈاکٹر محمد الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم