آصف الدولہاردو غزلیاتشعر و شاعری

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں

آصف الدولہ کی ایک اردو غزل

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کر
دل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکے
ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے تو کچھ یا نہیں آصفؔ سے یہ تو جان
یاں کس کو سناتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

آصف الدولہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button