آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

یہ بات الگ ہے کہ ہوئی پشت خمیدہ
پر دل کو خبردار کہا عمر رسیدہ

ہے پیار ترے پاس تو پھر ٹھیک ہے ورنہ
تو پاس ہی رکھ اپنے یہ اوصافِ حمیدہ

کل ہم نے بھی احباب کی فہرست نکالی
دو چار قلمزد کیے دو چار کشیدہ

یہ فرق نہ سمجھیں گے رقیبانِ مکرم
ہم ہجر گُزیدہ ہوئے وہ وصل گَزیدہ

یہ لمحہِ آغاز پہ پھر پہنچ گئے ہیں
ترتیب سے ہوتے ہوئے اعصاب تنیدہ

پھر دشت پہ اور قیس پہ ہم بات کریں گے
اک ہجر گزار آؤ ذرا خون چکیدہ

"تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے”
گلدان کی زینت بنیں گل ہائے بریدہ

یاں حسنِ تجلی ہے وہاں میری غزل ہے
یان چشم دریدہ ہے وہاں دہن دریدہ

ایسی ہے مہارت ہمیں مصرعے کی بنت میں
وہ شکل دکھاتے ہیں جو ہوتی ہے شنیدہ

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button