آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ظہران ممدانی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

ظہران ممدانی: نیویارک کی سیاست میں ایک نئی صبح
دنیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو آنے والی صدیوں کے رویوں اور نظریات کا رخ بدل دیتے ہیں۔ نیویارک جیسے شہر میں، جہاں سرمایہ، طاقت اور اثرورسوخ کا کھیل صدیوں سے جاری ہے، وہاں ایک مسلمان، ترقی پسند اور نوجوان رہنما ظہران ممدانی کا میئر بن جانا محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی علامت ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے سیاست کا سفر ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ اسلاموفوبیا، شناختی تعصب اور میڈیا کی منفی پیشکش نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر پیچھے رکھا۔ لیکن اس بار عوام نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ نیویارک کے ووٹرز نے مذہب نہیں، وژن کو چنا۔ ظہران ممدانی نے عوام کو یہ باور کرایا کہ قیادت کسی خاص طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر اس شخص کا حق ہے جو دیانت، انصاف اور خدمت پر یقین رکھتا ہو۔

بھارتی نژاد ظہران ممدانی نے سیاست کا آغاز نچلی سطح سے کیا۔ وہ محض وعدے نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی سیاست خدمت سے عبارت تھی۔ گلیوں میں رہنے والوں سے لے کر اپارٹمنٹ کے کرایہ داروں تک، ہر طبقے کے درمیان جا کر ان کی بات سنتے اور ان کے مسائل کو اپنی زبان بناتے۔ یہی انداز ان کے لیے عوام کے دلوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔

انہوں نے انتخابی مہم میں وہ راستہ اختیار کیا جو آج کے زمانے میں بہت کم نظر آتا ہے۔ بڑے جلسوں اور دولت مند اسپانسرز کے بجائے، وہ عوامی پارکوں، کیفے، لائبریریوں اور اسکولوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماع کرتے۔ سوشل میڈیا پر ان کا نعرہ "شہر سب کے لیے” مقبول ہوا اور یہی نعرہ ان کی مہم کی روح بن گیا۔

اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک جیسے بااثر چہروں نے ان کی مخالفت میں بیانات دیے۔ ٹرمپ نے انہیں "ریڈیکل مسلم” کہا جبکہ مسک نے طنزیہ انداز میں ان کے وژن کو "سیاسی خواب” قرار دیا۔ مگر عوام نے طاقت کے تمام تر شور کو مسترد کر کے اپنے دل کی آواز سنی۔ یہ فیصلہ صرف ایک شخص کے حق میں نہیں بلکہ اس سوچ کے حق میں تھا جو خدمت، مساوات اور انسان دوستی پر یقین رکھتی ہے۔

ممدانی کی کامیابی نے امریکی سیاست میں ایک نئی سمت پیدا کر دی ہے۔ یہ کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ عوام اب سیاسی چالاکی نہیں بلکہ عملی دیانت چاہتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب امریکہ کے نوجوانوں کو یقین ہوا کہ اگر نیت صاف ہو تو نظام بدلا جا سکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت آمیز فضا قائم کی گئی تھی، وہ اس جیت کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ اسلاموفوبیا کے بیانیے پر کاری ضرب ہے۔

نیویارک کے عوام نے مذہب یا نسل کے بجائے پالیسیوں کو ترجیح دی۔ ممدانی نے عوام سے وعدہ کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، کرایے منجمد کیے جائیں گے، اور ہر شہری کو سستا رہائشی مکان فراہم کیا جائے گا۔ یہی وہ وعدے تھے جو نیویارک کے عام شہریوں کے دلوں میں امید جگانے لگے۔

چونتیس سالہ ظہران ممدانی کی جیت نے یہ بھی ثابت کیا کہ قیادت کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ عزم سے ہوتا ہے۔ ان کی کامیابی نوجوان نسل کے لیے ایک حوصلہ ہے کہ اگر راستہ مشکل بھی ہو، مگر نیت خالص ہو تو دنیا کے سب سے بڑے شہر کی کنجی بھی ہاتھ آ سکتی ہے۔

ان کی جیت کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں، خصوصاً مغربی معاشروں میں بسنے والے نوجوانوں کے لیے یہ جیت امید کی ایک کرن بن گئی ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو کہتا ہے کہ جمہوریت میں حصہ لینا، اپنی آواز اٹھانا، اور اپنے حق کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔

اب ظہران ممدانی کے سامنے اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ نیویارک کا بجٹ، رہائشی بحران، اور سرمایہ دارانہ دباؤ ان کے لیے سخت آزمائش ہوں گے۔ مگر اگر ان کا اخلاص برقرار رہا، تو وہ واقعی اس شہر کو "سب کے لیے شہر” بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

امریکی اور عالمی میڈیا نے ان کی فتح کو "Progressive Wave” کا نام دیا ہے۔ گارڈین نے لکھا کہ "یہ جیت اس نسل کی ہے جو نعرے نہیں، عمل دیکھنا چاہتی ہے۔” ممدانی اب نہ صرف نیویارک بلکہ ترقی پسند سیاست کے عالمی استعارے بن چکے ہیں۔

آخر میں، یہ جیت ایک مسلمان کی نہیں بلکہ انسانیت، برابری اور اجتماعی شعور کی جیت ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ تبدیلی ہمیشہ نیچے سے جنم لیتی ہے۔ جب عوام جاگ جاتے ہیں تو طاقتور طبقات کے بیانیے ریت کی دیوار بن جاتے ہیں۔ ظہران ممدانی کی فتح دراصل ایک نئی صبح کی آمد ہے ۔۔ وہ صبح جس میں نسل، مذہب اور رنگ نہیں بلکہ انسانیت کا نام روشن ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button