تجھ سے کہہ جو دیا، نہیں لکھنا
کچھ بھی سچ کے سوا نہیں لکھنا
وہ مری دھڑکنوں میں بستا ہے
اُس کو خود سے جدا نہیں لکھنا
آخری نامۂ محبت میں
اُس نے جو کچھ لکھا، نہیں لکھنا
بے وفا ہے، سو اب ترے حق میں
کوئی حرفِ دعا نہیں لکھنا
لاکھ کوئی ڈرائے خنجر سے
قتل کو حادثہ نہیں لکھنا
میں نے تاریخ کی کتابوں میں
جو بھی اب تک پڑھا، نہیں لکھنا
خواہ ڈبو دے مرے سفینے کو
نا خدا کو خدا نہیں لکھنا
روبینہ شاد








