- Advertisement -

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

احمد رضوان کا ایک اردو مضمون

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

سچ ہی کہا ہے بزرگوں نے کہ عوامی دانش سے بھرپور محاورے یوں ہی وجود میں نہیں آتے۔ان کے پیچھے صدیوں کا تجربہ اور عوامی مشاہدات کا نچوڑ شامل ہوتا ہے ۔محاورہ یوں ہے کہ "چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں "۔گرچہ اس کالم کا عنوان بھی ایک مشہور مطلع کے مصرع اولی میں تضمین ہے۔ مگر الحمد للہ مجھے حوالہ جات دئے بنا لکھنا گوارا نہیں۔امیر مینائی کی روح سے معذرت کے ساتھ کہ ان کی شہر ہ آفاق غزل کا مصرعہ اولی مستعار لینا پڑا ہاں سرقے کی تہمت سے یہ خاکسار مکلف نہیں ہے۔کیا ہی خوب غزل ہے ایک بار ضرور پڑھئے گا فرصت ملے اگر۔ویسے تو ادبی سرقوں پر محبی ” اشعر نجمی ” نے اپنے مجلہ” اثبات "میں ایک ضخیم سرقہ نمبر چھاپ رکھا ہے جو کافی چشم کشا ہے ۔ اس کا مطالعہ بھی کافی سے ذیادہ ضروری ہے ۔

بات شروع ہوتی ہے ایک "عالم فاضل کالم نگار” سےجو ایک نامور علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں.اپنے کالمز سے چہار عالم علم و عرفان کی روشنی پھیلانے کے دعویدار ہیں۔خواہ لوگوں تک اس علمی پھیلاؤ کے لئے ان کو ساری دنیا کے کالمز کی خاک ہی کیوں نہ چھاننی پڑے۔تحقیق و تدقیق کے بحر ذخار کے شناور ہیں اور پایاب پانیوں میں قدم بھی نہیں رکھتے۔مگر ہائے کم بخت یہ بونگ پائے۔ بونگ پائے کھانے کے بعد حالت خمار میں ” فاضل کالم نگار” اپنے پندرہ اپریل کے کالم کی بابت اگر یہ بھول جائے کہ کہاں سے سرقہ کیا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور؟ قصور تو نورجہاں کا ہے یا بابابلہے شاہ کا۔ بونگ پائے چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے بس ہڈی چچوڑی جائے ۔ہاں "فاضل کالم نگار” کی یہ بہت بڑی خوبی ہےکہ بہت جلد اپنے لکھے کی طرف رجوع کرلیتے ہیں اور اسے حرف آخر نہیں سمجھتے۔اگر کوئی دوسرا سرقے کی نشاندہی کرے تو اصل حوالہ ڈال/ ڈلوا لیا کرتے ہیں تاکہ سند رہے اور عند الطلب پیش کیا جاوے۔ اگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو تو پوہ بارہ ورنہ ساڑھے بارہ۔

15اپریل 2020 کو "فاضل کالم نگار” نے حسب معمول ایک معاصر ویب سائٹ” ہم سب” پر اپنا تازہ کالم چھپوایا یا قرین قیاس ہے ویب سائیٹ نے جس تفاخر سے فٹ نوٹ میں یہ (Disclaimer) لکھا کہ یہ کالم خصوصی طور پر ہماری ویب سائیٹ کے لئے لکھا گیا۔ اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ فاضل کالم نگار نے ویب سائیٹ کا مان بڑھانے کےلئے یہ علم کشا کالم ان کی خصوصی فرمائش پرلکھا۔ برا ہو مگر "جنگ اخبار "کا بھی۔بھولے بادشاہ ہیں وہ .شائد میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے بعد معاملات درست طریقے سے ہینڈل نہیں کئے جارہے ۔ کسی اور کے لئے خصوصی طور پر لکھا گیا کالم بغیر کسی شکریہ کے "جوں کا توں” اٹھا کر اخبار میں لگا دیا۔اصل کہانی شروع ہونے سے پہلے اس لفظ "جوں کا توں” کو ذہن میں رکھیے گا ۔اسی میں اصل کہانی کا جوہر خاص پوشیدہ ہے۔کالم چھپا سب نے پڑھا۔تعریف کے ڈونگرے برسائے گئے۔ کالم بھی خوب وائرل ہوا۔کرونا کی طرح ہی سمجھ لیں۔ فیس بک پر بھی اس کے مواد کی کافی شیئرنگ ہوئی۔شومئی قسمت ٹورانٹو ،کینیڈا میں رہائش پذیر مصنفہ ،کالم نگار روبینہ فیصل نے بھی یہ علم کشا کالم پڑھا۔روبینہ بھی "فاضل کالم نگار” کے تبحر علمی کی مداح ہیں اور اس کا برملا اعتراف انہوں نے اپنے کالم کے ٹیپ کے بند اختتامی جملہ میں بھی کیا ہے ۔
روبینہ فیصل کے کالم کا لنک یہ ہے :

سائیں بابا سرقی والے۔۔روبینہ فیصل

"فاضل کالم نکار” کا کالم پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک اور نامور علمی شخصیت ڈاکٹر طاہر قاضی نے حسب معمول ہفتہ واری چنندہ کالمز روبینہ فیصل کو بھیجے ۔(ان چنندہ کالمز پر ویک اینڈ پر بحث کی جاتی ہے۔) ان میں نیویارکر میں چھپا ہوا "میتھیو ہٹسن” کا وہ اصل کالم بھی شامل تھا جسے "فاضل کالم نگار” نے ڈاکٹر ہو کی کہانی بتا کر اپنے کالم میں بیان کیا۔روبینہ فیصل کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ دونوں کالم تو ایک جیسے لگ رہے ہیں۔ بس نیویارکر کے کالم میں بونگ پائے کا تذکرہ نہیں ہے۔(میتھیو ہٹسن کیا جانے بونگ پائے کا سواد۔) ان کو لگا شائد نیویارکر کے کالم نگار "میتھیو ہٹسن” بھی فاضل کالم نگار کے تبحر علمی سے شدید متاثر ہیں مگر "میتھیو ہٹسن” کا کالم مطبوعہ 6 اپریل 2020 ہے ۔گومگو کی حالت میں انہوں نے پہلے ڈاکٹر قاضی سے پوچھا کہ ایں چہ قصہ است؟ پتہ چلا یہ تو معمول کی واردات ہے ۔ روبینہ نے اس سرقہ بازی پر کالم لکھ کر بھجوادیا جو سترہ اپریل کو مکالمہ پر شائع ہوا۔روبینہ کا کالم جب پڑھا گیا تو لازمی بات ہے مختارے تک کسی چن نے یہ اطلاع پہنچا دی کہ” اوٗے مختاریا بونگ پائے ای ناں کھائی جا ,گل ہن ودھ گئی اے تے آپنڑے کالم اچ تبدیلی کرلے یا کروا لے۔”اس کے بعد فاضل کالم نگار افتاں و خیزاں پہلے اپنے فیس بک پیج پر پہنچے اور وہاں چھیتی چھیتی اس جملے کا اضافہ کیا ” ڈاکٹر ہو کی کہانی میں نے نیویارکر میں پڑھی” اس کے بعد معاصر ویب سائٹ پر بھی یہی جملہ ہوبہو شامل کروا لیا ۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔تصحیح کروانا ہر لکھنے والے کا بنیادی حق ہے۔ حرف اعتذار بھی میڈیا کا بنیادی حصہ ہے ۔ڈیجیٹل میڈیا کی مگر یہی خوبی ہے کہ آپ جب چاہیں اپنے لکھے میں ردوبدل یا ترمیم کر سکتے ہیں یا چوری پکڑے جانے پر اصل حوالہ ڈلوا سکتے ہیں ۔یہ کونسا لوح جہاں پر حرف مکرر ہے جو دوبارہ لکھا نہیں جا سکتا۔برا ہو اس اسکرین شاٹ ٹیکنالوجی کا کہ اصل اشاعت اور ترمیم شدہ پرنٹ دونوں کی کاپیاں میرے پاس موجود ہیں جو بطور ثبوت لف ہیں۔ ہاں پرنٹ میڈیا کی پسوڑی کا کیا کریں ؟اس کا حل فوری طور پر "فاضل مصنف” کے پاس موجود نہیں تھا۔پرنٹ میڈیا کی ایک خوبی یا قباحت یہ کہہ لیں کہ ایک بار اخبار چھپ کر قاری تک پہنچ گیا اس کے بعد واپسی کا کوئی دروازہ نہیں رہتا ۔تصحیح شدہ نوٹ ہی بچتا ہے کالم نگار کی طرف سے جو اگلے شمارے میں دے دیا جاتا ہے جو سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے برابر ہوتا ہے ۔خیر باقی ہر جگہ تو اپنی غلطی کا سدھار جہاں جہاں ممکن تھا فاضل کالم نگار کھلے دل سے کر لیا مگر روبینہ فیصل کے کالم کے چھپنے کے بعد اس سے پہلے نہیں ۔اصل کالم میں یہ جملہ موجود نہیں تھا۔اب تک "جنگ اخبار” نے بھی اس کالم کی بابت مصنف کا وضاحتی نوٹ شائع نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہاں اس خوب صورت جملے کا اضافہ کیا ہے کہ فاضل کالم نگار نے ڈاکٹر ہو کی کہانی نیویارکر میں پڑھی۔

اس سارے قضیے پر بحیثیت ایڈیٹر میں یہ نوٹ لکھنے پر مجبور نہ ہوتا اگر ایک مفت کی وکیل جو روبینہ فیصل کا کالم چھپنے کے بعد مجھے یہ بتانے آئیں کہ ایسا کالم چھاپنے سے پہلے آپ کو پوری تحقیق کرنی چاہیے تھی ۔”فاضل کالم نگار” نے اپنے فیس بک پیج پر اور معاصر ویب سائیٹ پر اصل کالم کا حوالہ دیا ہوا ہے۔مجھے محترمہ کی بات سے کلی اتفاق ہے کہ اب یہ حوالہ موجود ہے ۔واقعی بقول ڈاکٹر طاہر قاضی یہ معجزہ رونما ہوچکا ہے ۔مگر کب ہوا جب ان کی چوری یا سرقہ پکڑا گیا۔ یہ حوالہ اگر پہلے اپنےاصل کالم میں لکھ دیتے تو میں ان کے لکھے پر معترض نہ ہوتا ۔ہائے اس ذود پشیمان کا پشیمان ہونا ۔بس اتنا ہی کہوں گا” بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میں سبحان اللہ۔”

احمد رضوان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اویس خالد کی ایک اردو غزل