آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتخالد سجاد

یہ الگ بات پکارا تو نہیں جا سکتا

خالد سجاد کی ایک اردو غزل

یہ الگ بات پکارا تو نہیں جا سکتا
آنکھ سے اس کا نظارہ تو نہیں جا سکتا

یار سے پیار میں ناراضی ہوا کرتی ہے
اس طرح جان سے مارا تو نہیں جا سکتا

عشق سے چھوٹ گئی جاں تو غنیمت سمجھو
ورنہ یہ صدقہ اتارا تو نہیں جا سکتا

آخری تیر تلک جنگ میں لڑنا ہے مجھے
بزدلوں سے کبھی ہارا تو نہیں جا سکتا

پاؤں دھرتی میں بھلے جتنے گڑے ہوں پھر بھی
آسماں سر پہ سہارا تو نہیں جا سکتا

چاہے میں عمر کا سرمایہ لگا دوں خالد
کارِ دنیا کا خسارہ تو نہیں جا سکتا

خالد سجاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button