اردو غزلیاتسلیم کوثرشعر و شاعری

قربتیں ہوتے ہوئے بھی

سلیم کوثر کی ایک اردو غزل

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی

کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں

شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول

اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں

پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی

ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن

پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں

اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا

منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں

کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ

سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں

 

سلیم کوثر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button