نیا عزم اورپرانی یادیں- نیا سال مبارک ہو
شاہد نسیم چوہدری کا ایک اردو کالم

آج سال نو 2026 کا نواں دن ہے۔نئے سال کی دہلیز پر کھڑے ہو کر جب میں پیچھے مڑ کر گزرتے لمحوں کو دیکھتا ہوں تو یادوں کے دروازے ایک ایک کر کے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ کہیں خوشیوں کے چراغ ہیں، کہیں دُکھ کے بادل، کہیں کامیابی کی روشنی ہے تو کہیں ناکامیوں کے سائے۔ مگر اس سب کے درمیان ایک چیز مستقل اور روشن رہی — وہ ہے آپ سب کی محبت، آپ سب کا ساتھ، اور اس تعلق کی حرارت جس نے ہر مشکل گھڑی کو سہل بنا دیا۔ آج اسی احساسِ تشکر کے ساتھ، میں یہ کالم اپنے تمام ادبی دوستوں، عزیز و اقارب، محبین اور خصوصاً سرزمین ادبی فورم پاکستان کے تمام ٹیم ممبران کے نام لکھ رہا ہوں، تاکہ نئے سال کی پہلی دعا آپ سب کے نام ہو اور پہلا سلام بھی آپ ہی تک پہنچے۔
گزرتا ہوا سال ہم سب کے لیے ایک کہانی سا تھا — کچھ باب خوش رنگ تھے، کچھ سیاہ حرفوں سے بھرے۔ ہم نے ہنسا بھی بہت، اور کئی بار آنکھیں بھیگیں بھی۔ مگر اس سال نے ہمیں ایک سبق ضرور دیا کہ رشتے، تعلق، اخلاص اور دل کی سچائی جیسی نعمتوں کا کوئی بدل9 نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ وقت کتنا بے مہر بھی ہو سکتا ہے اور کس طرح ایک ان دیکھے لمحے میں سب کچھ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ لیکن پھر یہی وقت ہمیں یہ بھی سکھا جاتا ہے کہ ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے، ہر ٹھہراؤ کے بعد نیا سفر شروع ہوتا ہے، اور ہر غم کے بعد امید جنم لیتی ہے۔
میں ان تمام دنوں کو یاد کرتا ہوں جب ہم نے مل بیٹھ کر خواب بُننے کی کوشش کی، ادب کے چراغ روشن کیے، اور لفظوں کی بستی میں محبت کے پھول بوئے۔ سرزمین ادبی فورم پاکستان نے اس سال بھی اپنی روایت برقرار رکھی — نہ کسی مفاد کی خواہش، نہ کسی شہرت کی تمنا، بس ادب اور زندگی سے محبت، سوچ کی پاکیزگی اور ایک بہتر معاشرے کا خواب۔ یہاں ہر قلم کار، ہر قاری اور ہر محبِ ادب نے اپنے حصے کی شمع جلائی۔ میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ یہ قافلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے۔
خاص طور پر سرزمین ادبی فورم پاکستان کےسرپرست محترم ذاہد فخری صاحب کے لیے دل سے دعائے خیر ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، درازیٔ عمر، سکونِ قلب اور ایمان کی سلامتی عطا فرمائے۔ ان کی رہنمائی ہمیشہ ہمارے لیے مینارِ نور رہی ہے۔ اسی طرح سرزمین میڈیا فورم اور سرزمین ادبی فورم پاکستان کے چیف ایگزیکٹو محترم صفدر علی خان صاحب کے لیے بھی دلی نیک تمنائیں — کہ ربِ کریم ان کے ارادوں کو خیر میں ڈھال دے، ان کی کاوشیں بارآور ہوں، اور وہ علم و ادب کی مشعل کو مزید بلندیوں تک لے کر جائیں۔سرزمین ادبی فورم پاکستان کے ٹیم ممبران فراز صفدر صاحب۔نجمہ منصور صاحبہ۔ڈاکٹر شبیر قادری صاحب۔نوید مغل صاحب۔نسرین سید صاحبہ۔ سفینہ سلیم صاحبہ۔ناصر نظامی صاحب۔شجاع الزمان خان صاحب۔ڈاکٹر ذاہد سرفراز ذاہد صاحب۔ابرار حبیبی صاحب۔قاضی محمد عباس صاحب۔ذوالفقار علی بخاری صاحب۔رانا شہیل صاحب اور منیبہ منیر صاحبہ کے لئے بھی دعاگو ہوں کے نیا سال 2026 آپ سب کے لئے محبت۔عزت۔صحت۔تندرستی۔کامیابیوں،کامرانیوں اور خیر وبرکت والاسال ہو۔۔۔
یہ کالم دراصل ایک دعا ہے، ایک اعترافِ محبت ہے، ایک شکرانہ ہے۔ میرے تمام دوستوں کے لیے — جو میرے ساتھ خوشی میں بھی تھے اور دکھ میں بھی — میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے زندگی کو زندگی بنایا۔ آپ کی گفتگوؤں نے، آپ کے مشوروں نے، آپ کی خاموش دعاؤں نے مجھے سہارا دیا۔ میں آپ سب کے لیے نئے سال کے اس پہلے دن یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کی راہوں سے کانٹے چن لے، آپ کی پیشانی پر لکھی ہر پریشانی مٹا دے، اور آپ کے دلوں کو وہ اطمینان عطا کرے جو دنیا کی کسی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔
ہمارے گھروں پر ہمیشہ رحمتیں برسیں، ہمارے بچوں کے سروں پر امن و محبت کے سائے رہیں، ہمارے شہروں سے نفرت کی دھول چھٹ جائے، اور ہمارے وطن پاکستان پر رب تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا نزول ہوتا رہے۔ یہ سرزمین جس نے ہمیں پہچان دی، لفظ دیے، محبت دی — ہم سب مل کر دعا کریں کہ یہ وطن ہمیشہ سلامت رہے، مضبوط رہے، اور دنیا کی قوموں میں عزت و وقار کے ساتھ کھڑا رہے۔
گزرا ہوا سال ہمیں یہ بھی سکھا گیا کہ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں مگر دلوں کو توڑ دینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ہم اگر ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں تو شاید دنیا تھوڑی بہتر ہو جائے۔ اسی لیے نئے سال کا پہلا عہد یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے رویے نرم کریں، لہجے میں محبت رکھیں، بات میں وزن ہو مگر دل آزاری نہ ہو۔
میں ادب کے ہر خدمت گزار کے لیے بھی دعا کرتا ہوں — وہ شاعر جو تنہائی میں لفظوں کو آنسوؤں سے تر کرتا ہے، وہ ادیب جو معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے، وہ قاری جو لفظوں میں اپنی دنیا تلاش کرتا ہے — سب کے لیے سلام اور نیک خواہشات۔ سرزمین ادبی فورم کے ہر رکن کے لیے خصوصی دعائیں — آپ سب اس گلشن کے مالی ہیں، اور آپ ہی کے ہاتھوں سے یہ پھول کھلتے ہیں۔
آئیے اس نئے سال میں ہم یہ بھی طے کریں کہ ہم مایوسی کی تاریکی کو امید کے چراغ سے بدلیں گے۔ ہم نفرت کے جواب میں محبت کریں گے، اور تنقید کے ساتھ ساتھ تعمیر بھی کریں گے۔ ہم اپنی خامیوں کو تسلیم کریں گے، اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے، اور ایک بہتر انسان بننے کی کوشش کریں گے۔ یہی اصل کامیابی ہے — خود کو بدلنا، خود کو بہتر کرنا۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ میں آپ سب کے لیے ہمیشہ دعاگو رہا ہوں اور رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے، آپ کے گھروں میں رزقِ حلال کی فراوانی ہو، دلوں میں سکون ہو، قدموں میں برکت ہو اور زندگیاں خوشیوں سے بھر جائیں۔ گزرے سال کی تھکن کو یہ نیا سال دھو دے، غموں کو خوشیوں میں بدل دے، اور ہماری آنکھوں کو وہ چمک عطا کرے جو امید کے چراغ سے پھوٹتی ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے، ہمارے مستقبل کو روشن کرے، اور ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
سالِ نو مبارک ہو — محبت، اخوت اور ادب کے ساتھ۔
بہت محبت ،ادب اور سچی خیر خواہی کے ساتھ یہ چند سطور بھی شامل کرنا ضروری سمجھتا ہوں—
کہ پہچان پاکستان کے پلیٹ فارم پر بھی کچھ سال ادب کے حوالے سے میری رفاقت رہی۔اس کی بہتری کے لئےبغیر کسی مفاد اپنا خون پسینہ بہایا، دن رات ایک کیا۔۔ لفظوں کے سفر میں ہم سب نے ساتھ ساتھ قدم بڑھائے، کچھ خواب دیکھے، کچھ ارادے باندھے، کچھ خاکے ذہن میں سجے اور کچھ عملی صورت بھی اختیار کر گئے۔ پھرکچھ ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر راستہ بدلنا پڑا۔ مگر سچ یہ ہے کہ راستے بدلتے ہیں، یادیں نہیں بدلتیں۔ میں آج بھی اُن تمام ساتھیوں کو دل سے یاد کرتا ہوں—کسی سے شکوہ نہیں، گلہ نہیں— ان سب کیلئےصرف دعائیں ہیں، محبتیں ہیں اور اچھی تمنائیں ہیں۔
لیکن یہ بھی لازم ہے کہ جب کچھ غلط فہمیاں پروان چڑھنے لگیں تو وہ تناور
درخت بن کر سائے نہیں دیتے، دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔ ادب کا سفر دراصل انا کے بوجھ سے خالی ہونا چاہیے، مگر کبھی کبھی انا کی اینٹیں اتنی مضبوطی سے جوڑ دی جاتی ہیں کہ پھر رشتہ ٹوٹے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ اور سچ پوچھیے تو عزتِ نفس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب کچھ الفاظ کے چناؤ سے دل کی زمین زخمی ہوتے محسوس ہونے لگے، تو پھر بہتر ہے خاموشی کی چادر اوڑھ لی جائے—اور عزت کے ساتھ راستہ بدل لیا جائے۔ یہی وقار ہے، یہی سمجھ داری ہے۔
میں وہاں کے تمام دوستوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ نہ کوئی گلہ دل میں ہے، نہ کوئی بوجھ۔ آپ سب اپنی اپنی جگہ بہت عزیز ہیں ،محترم ہیں۔ اگر کہیں کوئی غلط فہمی در آئی تو وہ بھی وقت کی کوتاہی سمجھ لیجیے۔ اللہ کرے کہ ہم سب کے دل ہمیشہ کشادہ رہیں، ہم لفظوں کی دنیا میں بھی انسانی وقار کو سب سے پہلے رکھیں، اور حق بات پر اختلاف کے باوجود احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔
خصوصی طور پر زکیر احمد بھٹی صاحب کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، آسانیاں، مضبوطیٔ حوصلہ اور کامیابی عطا فرمائے۔ ان کی محنت بارآور ہو، ان کی سوچ مثبت سمت میں پھل دے، اور وہ ہمیشہ خیر اور صداقت کے راستے پر رہیں۔ ان کی زندگی میں خوشیوں کے دروازے کھلے رہیں اور ہر مشکل ان کے سامنے آسانی ہو۔
آخر میں یہ عہد بھی ضروری ہے کہ ہم جہاں بھی رہیں، جس کے ساتھ بھی رہیں، لفظ کو لفظ کی عزت اور انسان کو انسان کی حرمت ضرور دیں۔ اگر کبھی راہیں جدا بھی ہوں تو دل تنگ نہ ہوں، نظریں جھکیں نہیں بلکہ دل نرم ہو جائیں دوستوں سے اتنی سی گزارش ہے:
ذندگی میں غلط فہمی اگر کبھی جنم لے تو اسے رفع کرنے کی کوشش کریں— دل آزاری محسوس ہونے لگے تو خاموشی کے ساتھ الگ ہو جانا ہی سب سے بڑا وقار ہے۔اللہ ہم سب کے حال پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، دلوں کو نرم رکھے، راستوں کو روشن کرے—
اور ہمارے قلم، ہمیشہ محبت کے حق میں اٹھتے رہیں۔
سب کو ایک اور نیا سال مبارک ہو۔۔۔۔ !!
شاہد نسیم چوہدری








