اختر عثماناردو غزلیاتشعر و شاعری

بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا

اختر عثمان کی ایک اردو غزل

بھنور، برہم ہوائیں، گم کنارا، کیا بنے گا
دریدہ بادباں اپنا سہارا کیا بنے گا

بڑوں پر منکشف تھی سہل انگاری ہماری
ہمیں اجداد کہتے تھے ، تمہارا کیا بنے گا

ابھی سے خال و خد روشن ہوئے جاتے ہیں اس کے
کبھی جو چاک پر آیا تو گارا کیا بنے گا

حِرائے ذہن میں اُترا ہے جبریلِ تخیل
بتاتا ہے کہ آئندہ نظارہ کیا بنے گا

نئے سالار سے زنداں میں بچے پوچھتے ہیں
ہمارے شہر کے فاتح، ہمارا کیا بنے گا

ہوا کے شر سے دامن ہی بچائے تو بچائے
دریدہ بادباں اپنا سہارا کیا بنے گا

یہ آب و تاب مجھ میں ازل ہی سے تھی اخترؔ
مرے تیور بتاتے تھے ستارہ کیا بنے گا

اختر عثمان​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button