آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریولی اللہ ولی

میں نہیں پوچھتا سزا کیا ہے؟

غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی

میں نہیں پوچھتا سزا کیا ہے؟
یہ بتا دو مِری خطا کیا ہے؟

کاش اُس کو مِرا خیال آئے
مجھ سے پوچھے تجھے ہوا کیا ہے؟

جس کو دیکھو اُسی کا شیدائی
کیا بتاؤں وہ دلرُبا کیا ہے؟

اُس کو معلوم ہی نہیں شاید
آہ کیا چیز ہے؟ دُعا کیا ہے؟

کوئی جینا ہے ایسا جینا بھی
ایسے جینے سے فائدہ کیا ہے؟

یہ بتاؤ کہ کب ملو گے تم
یہ نہ پوچھو مجھے ہوا کیا ہے؟

 

ولی اللّٰہ ولی

post bar salamurdu

ولی اللہ ولیؔ

سوانحی اشاریہنام : محمد ولی اللہ قلمی نام : ولی اللہ ولی ؔ ولادت : ۷ جنوری ۱۹۶۷ء جائے ولادت : حسن پور وسطی، مہوا، ویشالی، بہار والدکا نام : محمد امین اللہ ابن علی کریم والدہ کا نام : زاہدہ خاتون بنت عبد السعید عرف محمد موسیٰ تلمّذ : ڈاکٹر معراج الحق برقؔ، جناب قیصرؔ صدیقی تعلیم : ایم۔ اے، پری پی ایچ۔ ڈی(فارسی)، جواہر لعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی مشغلہ : ملازمت، فارسی نشریات، آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button