آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریعاجز کمال رانا

گمشدہ ستارا

عاجز کمال رانا کی ایک اردو نظم

دل کی تاریکی میں
گمشدہ ستارے نہیں ملتے
تو معلوم ہوتا ہے
کہ یہ اندھیرا رات کی نسبت کہیں زیادہ ہے
میری میز پر رکھا گلاس
آدھا خاموشی سے بھرا ہوا ہے
اور آدھا سکوت سے
کھڑکیوں سے چھنتی
تنہائی کی ریت
میرے الفاظ میں در آتی ہے
الو بولتے ہیں تو مجھے شب گزیدگی کا طعنہ ملتا ہے
میں تمہاری محبت کے
سورج کو اپنی مٹھی میں قید کر پایا تھا
اور نہ دل میں۔۔۔
اسی لیے گندمی خواہشات
بیماری کے سبب
کالی ہو کر اس اماوس نما شب
یعنی شبِ فرقت میں شامل ہوگئیں
میں اب بھی ان لمحات سے پہلے
تمہارے ہاتھ کی سازگار فضا میں
بوسہ محسوس کرنا چاہتا ہوں
تیرگی سے لڑنا میرے لاشعور میں ہے
میں رونا چاہتا ہوں
میں تمہاری کائنات کا
کوئی گمشدہ ستارہ ہوں
میں ہنسنا چاہتا ہوں

عاجز کمال رانا

post bar salamurdu

عاجز کمال رانا

خوشاب, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button