- Advertisement -

Yeh Log Jis Se Ab Inkaar

An Urdu Ghazal By Saleem Kausar

یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں

وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا

سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی

ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں

اب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں

گل امید فروزاں رہے تری خوشبو

کہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں

اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدری

اب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں

جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاں

ہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں

وہ ہم ہیں جو تری آواز سن کے تیرے ہوئے

وہ اور ہیں کہ جو دیدار کرنا چاہتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو