- Advertisement -

لعل پر کب دل مرا مائل ہوا

میر تقی میر کی ایک غزل

لعل پر کب دل مرا مائل ہوا
اس لب خاموش کا قائل ہوا

لڑ گئیں آنکھیں اٹھائی دل نے چوٹ
یہ تماشائی عبث گھائل ہوا

ناشکیبی سے گئی ناموس فقر
عاقبت بوسے کا میں سائل ہوا

ایک تھے ہم وے نہ ہوتے ہست اگر
اپنا ہونا بیچ میں حائل ہوا

میر ہم کس ذیل میں دیکھ اس کی آنکھ
ہوش اہل قدس کا زائل ہوا

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل