آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاجز کمال رانا

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود
رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود

اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں
میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود

اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ
پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود

پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر
یزداں نے اپنے ہاتھ سے سینچا مرا وجود

اس میں ہر ایک بات ہے پر بولتا نہیں
پایا ہے میرے یار نے تصویر سا وجود

کیسے کرے گا سامنا دنیا کا اب کمال
ذلت کی گہری کھائی میں پھینکا گیا وجود

عاجز کمال رانا

post bar salamurdu

عاجز کمال رانا

خوشاب, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button