اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے
اور جو وہ پوچھیں کہ کیا ہے تو بتائے نہ بنے

تم کو آزردگیٔ دل کا مزا کیا معلوم
کاش تم سے بھی کوئی کام بنائے نہ بنے

تو نے کیوں ان کو غم زیست دیا ہے یا رب
جن سے اک رنج محبت بھی اٹھائے نہ بنے

ہائے کیا پاس محبت ہے کہ تنہائی میں بھی
اشک آنکھوں میں رہے اور بہائے نہ بنے

ہم نشیں پوچھ نہ اس بزم کی رسمیں کہ جہاں
مجھ سے وحشی کو بھی بن ہوش میں آئے نہ بنے

وقت کی چارہ گری یوں تو مسلم ہے مگر
زخم بھی وہ ہے کہ تا عمر دبائے نہ بنے

یہ بھی اک رسم تماشا ہے وہاں اے عالیؔ
دیکھتے رہیے مگر آنکھ اٹھائے نہ بنے

جمیل الدین عالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button