پنجاب کے میدان اس وقت ایک دلخراش منظر پیش کر رہے ہیں۔ دریاؤں کے بے قابو ریلا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گیا ہے۔ جہاں کبھی ہریالی جھومتی تھی اور کسان اپنے خوابوں کو لہلہاتی فصلوں میں دیکھتے تھے، آج وہاں پانی کا جمود، مٹی کی سوندھی نمی اور اجڑی زندگی کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ کچے مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہو چکی ہیں، گلیاں ندی نالوں میں بدل گئی ہیں، اور زندگی کے سب رنگ جیسے بہہ گئے ہوں۔ مائیں اپنے بچوں کو گود میں چھپائے اس خوف سے سہمی بیٹھی ہیں کہ کہیں بھوک اور بیماری کا سایہ ان کے ننھے چراغوں کو بجھا نہ دے۔ یہ مناظر انسان کے دل کو جھنجھوڑتے ہیں، مگر افسوس کہ ان کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت جُڑی ہے—ریلیف کی سیاست۔
ہمارے ہاں قدرتی آفات کے بعد ایک خاص طرح کا تماشا برپا ہوتا ہے۔ سیاست دان قافلوں اور میڈیا ٹیموں کے جلو میں متاثرہ علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ چند تھیلے، چند نوٹ اور چند نمائشی اعلانات کیمروں کے سامنے بانٹ دیے جاتے ہیں۔ متاثرین کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے بعد اگلے دن یہ قافلے واپس شہروں کی محفوظ فضاؤں میں جا چھپتے ہیں، اور وہ لوگ جن کی زندگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہوتی ہے، پھر اپنی حالت پر خود ہی صبر کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔ ریلیف دراصل ان کے لیے نہیں بلکہ سیاست دانوں کی ساکھ کے لیے ہوتا ہے۔
یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ وقتی راشن یا فوٹو سیشن کسی اجڑے گھرانے کی زندگی واپس نہیں لا سکتا۔ کسان کو اپنی فصل کے نقصان کا پورا ازالہ چاہیے، مزدور کو دوبارہ روزگار چاہیے، بیمار کو دوا اور بچے کو تعلیم چاہیے۔ صرف امدادی ٹرک بھیج دینا یا اعلانات کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر حکومت اور ادارے اس بحران کو محض ایک عارضی ایمرجنسی سمجھ کر نمٹائیں گے تو اگلے سال پھر یہی کہانی، انہی کرداروں کے ساتھ دہرائی جائے گی۔
پاکستان میں بارش اور سیلاب کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو دہائیوں سے ہمارے ساتھ ہے، مگر ہم نے کبھی اس سے سیکھنے اور مستقل حل نکالنے کی کوشش نہیں کی۔ جب بھی سیلاب آتا ہے تو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے اور جب پانی اترتا ہے تو وعدے اور دعوے بھی سوکھے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی ریلیف سے آگے بڑھیں اور پالیسی سطح پر پائیدار اقدامات کریں۔
سب سے پہلے تو دریاؤں کے کنارے مضبوط بند باندھنے اور نکاسیٔ آب کے جدید نظام کی اشد ضرورت ہے تاکہ بارش اور سیلاب کا پانی شہروں اور دیہات کو اجاڑنے کے بجائے محفوظ راستوں سے گزر سکے۔ دیہی معیشت کو سہارا دینا بھی ناگزیر ہے۔ متاثرہ کسانوں کے لیے آسان قرضے، کھاد اور بیج پر سبسڈی، اور بے گھر خاندانوں کے لیے تعمیر نو کے پیکیج جیسے اقدامات اُن کی زندگیوں کو دوبارہ جڑنے کا حوصلہ دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو فعال اور بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ وہ کسی بھی آفت کے وقت فوری ردعمل دے سکیں اور ہر بار متاثرین کو مرکز یا صوبے کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔
یہ وقت کا سب سے بڑا امتحان ہے: کیا ہم ان انسانوں کو صرف اعداد و شمار اور فوٹو سیشن کا حصہ سمجھتے رہیں گے یا پھر انہیں حقیقی معنوں میں اپنے معاشرے کے افراد مان کر ان کے دکھ بانٹیں گے؟ وقت کی پکار یہ ہے کہ ریلیف کی سیاست کو پیچھے چھوڑ کر پائیدار اور مستقل حل کی طرف بڑھا جائے۔ بصورتِ دیگر آنے والے برسوں میں یہی بے قابو پانی ہمارے اجتماعی ضمیر اور ہمارے حکومتی ڈھانچے کی ناکامی کو بار بار دہراتا رہے گا۔
یوسف صدیقی








