- Advertisement -

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

ایک اردو غزل از ساحل سلہری

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

نشاں مٹا کے یہ رستہ تلاش کرتا ہوں

عجیب آدمی ہوں ہر نئے تعلق میں

وفا کا رنگ پُرانا تلاش کرتا ہوں

میں دشتِ ہجر میں پھرتا ہوں اپنی پیاس کے ساتھ

ترے وصال کا چشمہ تلاش کرتا ہوں

کہ تیری رہ تو نہیں ایک ایک رستے سے

میں تیرا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں

قدم قدم پہ یہاں بے بہار برگد ہیں

میں راہِ دشت میں سایہ تلاش کرتا ہوں

میں یاد کر کے زمانہ ابھی بھی کیمپس کا

ترے وصال کا لمحہ تلاش کرتا ہوں

وہ دکھ ملے ہیں مجھے گلستان سے ساحل

میں اپنے واسطے صحرا تلاش کرتا ہوں

ساحل سلہری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہزاد نیّرؔ کی ایک اردو نظم