آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

لاہور پارٹی اور ہماری نسل کا مستقبل

ایک اردو تحریر از ایم اے دوشی

14 اگست ہر سال پاکستانی عوام کے لیے خوشی اور جوش و خروش کا دن ہوتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہم آزادی کی نعمت کو یاد کرتے ہیں اور ان قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ ملک وجود میں آیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ برسوں سے ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات اور تقریبات ہونے لگی ہیں جو آزادی کے حقیقی مقصد اور قومی تشخص سے دور لے جا رہی ہیں۔ لاہور میں 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو ہونے والی ایک تقریب اس بات کی واضح مثال ہے، جس میں نہ صرف ٹرانس جینڈر پرفارمنس پیش کی گئی بلکہ کچھ افراد نے ایسے گیٹ اپ اور لباس اپنائے جو مغربی کلچر میں ایلومیناٹی اور شیطانی علامتوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

یہ محفل بظاہر ایک "پارٹی” تھی، مگر دراصل یہ ایک سوچ اور نظریے کو فروغ دینے کی کوشش تھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں آزادی کی رات کو اس طرح کے مناظر پیش کرنا کس قدر خطرناک ہے؟ کیا یہ صرف تفریح کے نام پر ہورہا ہے، یا اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی موجود ہے؟

ہمارے معاشرے میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ان کے ذہنوں میں مغربی طرزِ زندگی کا خواب بٹھا دیا ہے، دوسری طرف ایسے پروگرام ان کے سامنے یہ تاثر چھوڑتے ہیں کہ یہ سب "نارمل” ہے۔ جب آزادی کی رات جیسے مقدس موقع پر اس طرح کی پرفارمنسز سامنے آئیں گی تو نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ شاید یہی جدیدیت اور ترقی کی علامت ہے۔

اس کے نتیجے میں نوجوان اپنی ثقافت اور اقدار سے دور ہوتے جائیں گے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ قومی تہوار صرف ناچ گانے یا عجیب و غریب لباس پہننے کا نام ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک قوم اپنی شناخت کھونے لگتی ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ مغربی معاشرہ اپنی اقدار کو میڈیا، فلم، فیشن اور موسیقی کے ذریعے پوری دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں، یہ اثرات زیادہ تیزی سے سرایت کرتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر معاشرے کی اپنی تہذیب اور اپنی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اندھا دھند مغربی کلچر کو اپنانا شروع کر دیا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری اپنی پہچان ہی مٹ جائے گی۔

ایلومیناٹی یا شیطانی گیٹ اپس اپنانا محض ایک فیشن نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ لوگ ہمارے معاشرے کو اخلاقی اور فکری طور پر گمراہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک آزادی کا مطلب ہے کہ آپ ہر قید اور ہر قدر سے آزاد ہو جائیں، چاہے وہ مذہبی ہو یا سماجی۔

پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ یہاں کے عوام نے قربانیاں صرف زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں دیں بلکہ اس خواب کے لیے دیں کہ ایک ایسی ریاست قائم ہو جہاں اسلامی اقدار اور روایات کو پروان چڑھایا جا سکے۔ ایسے میں 14 اگست کی رات کو اس طرح کے پروگرام منعقد کرنا صرف ہماری مذہبی حساسیت کو مجروح نہیں کرتا بلکہ ہمارے قومی مقصد پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ فن اور تفریح کا دائرہ اپنی جگہ درست ہے، مگر جب فن کے نام پر فحاشی، بے حیائی یا شیطانی علامتوں کو فروغ دیا جائے تو یہ معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ صرف چند افراد کی حرکت ہے یا ہمارے ریاستی ادارے اور سماجی ڈھانچے بھی اس کے ذمہ دار ہیں؟ سچ یہ ہے کہ جہاں والدین اپنی اولاد پر نظر رکھنے میں ناکام ہیں، وہیں حکومت بھی ایسے پروگراموں کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ میڈیا اور شوبز انڈسٹری بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ آزادی کے موقع پر مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے منفی اور غیر اخلاقی رجحانات کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ شعور دیں کہ آزادی صرف ناچ گانے کا نام نہیں بلکہ اپنے تشخص کو محفوظ رکھنے کا نام ہے۔ ترقی کا مطلب اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنی روایات اور اقدار کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں یہ سمجھانا ہوگا کہ مغربی کلچر کو اپنانا ہی ترقی نہیں، بلکہ اصل ترقی یہ ہے کہ ہم اپنی بنیادوں پر کھڑے ہوں اور اپنی اصل کو دنیا کے سامنے فخر سے پیش کریں۔

اس مسئلے کا حل صرف تنقید میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔

والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کو اپنی ثقافت اور دین کی اہمیت سمجھائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ آزادی جیسے قومی دنوں پر مثبت تقریبات منعقد کرے تاکہ نوجوانوں کو درست سمت میں لے کر جائیں۔میڈیا کو چاہیے کہ وہ تفریح کے نام پر منفی رجحانات کو فروغ دینے کے بجائے قومی تشخص اور دینی اقدار کو اجاگر کرے۔اس کے علاوہ نوجوانوں کو خود بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک ایسی قوم کے وارث ہیں جس نے اسلام کے نام پر قربانیاں دیں۔

لاہور میں ہونے والی یہ تقریب محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک الارم ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر ہم نے ابھی سے اپنی سمت درست نہ کی تو آنے والی نسلیں اپنی پہچان کھو بیٹھیں گی۔ آزادی صرف جھنڈے لہرانے یا آتش بازی کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نظریے اور اپنی تہذیب کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کن راستوں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

ایم اے دوشی

post bar salamurdu

ایم اے دوشی

ایم اے دوشی اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی- چیئرمین صدائے سخن پروفائل نام: ایم اے دوشی پیشہ: اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی عہدہ: چیئرمین – صدائے سخن تاریخ پیدائش : 1988 مقام: اسلام آباد، پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button