آپ کا سلاماردو نظمسلمیٰ سیّدشعر و شاعری

گلابی سورج

سلمیٰ سیّد کی ایک اردو نظم

گلابی سورج

میں سورہی تھی

گلابی سورج مری نگاہوں پہ پڑ رہا تھا

وہ کہہ رہا تھا

قریب آؤ نظر ملاؤ اور اپنے حصے کے خواب لے لو

میں بند آنکھوں سے اس کی جانب

 قدم بڑھا کے کھڑی ہوئی ہوں

میں اپنے خوابوں میں ساتھ پانے پر

 اس سے اس کا اڑی ہوئی ہوں

کہ پھر اچانک گلابی کرنوں نے رنگ بدلا

سنہری سبزے نے آنکھ کھولی

مری نگاہوں نے چاہا اس پل کہ بھر لوں جھولی

جھپک کے پلکیں میں اتنا بولی

 ہے منظور مجھ کو جو تیری رضا ہو

اٹھے میری میت سجے میری ڈولی

کہیں سے اڑتے میرے لبوں پہ گلاب آئے

اور میرے حصے میں بہتے جھرنوں سے خواب آئے

میں ان گلابوں کی شدتوں میں پگھل گئی ہوں

میں خواب پلو سے باندھے سارےنئے سفر پہ نکل گئی ہوں

سلمیٰ سیّد

سلمیٰ سیّد

قلمی نام سلمیٰ سید شاعری کا آغاز۔۔ شاعری کا آغاز تو پیدائش کے بعد ہی سے ہوگیا تھا اسوقت کے بزرگوں کی روایت کیمطابق گریہ بھی خاص لے اور ردھم میں تھا۔۔ طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ سے معذرت کے ساتھ غالب اور میر کی بڑی غزلیں برباد کرنے کے بعد تائب ہو کر خود لکھنا شروع کیا۔ناقابل اشاعت ہونے کے باعث مشق ستم آج تلک جاری ہے۔اردو مادری زبان ہے مگر بہت سلیس اردو میں لکھنے کی عادی ہوں۔ میری لکھی نظمیں بس کچھ کچے پکے سے خیال ہیں میرے جنھیں آج آپ کے ساتھ بانٹنے کا ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا۔۔ تعلیمی قابلیت بی کام سے بڑھ نہ سکی افسوس ہے مگر خیر۔۔مشرقی گھریلو خاتون ایسی ہی ہوں تو گھر والوں کے لیے تسلی کا باعث ہوتی ہیں۔۔ پسندیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے مگر شاعری کی ابتدا سے فرحت عباس شاہ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔ شائد یہی وجہ ہے میری نظمیں بھی آزاد ہیں۔۔ خوبصورت شہر کراچی سے میرا تعلق اور محبت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button