اردو غزلیاتشعر و شاعریلیاقت علی عاصم

سلگ رہی ہے نظر شام کے دھندلکے میں

لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل

سلگ رہی ہے نظر شام کے دھندلکے میں
کوئی تو آئے اِدھر شام کے دھندلکے میں

گزرنے والوں کو حسرت سے دیکھنے والا
یہ میں ہوں یا کہ شجر شام کے دھندلکے میں

ستارے ٹوٹ کے دامن میں آ نہیں سکتے
کوئی گمان نہ کر شام کے دھندلکے میں

تلاش تھی مجھے دنیا کی دھوپ میں جس کی
ملا وہ سایہ مگر شام کے دھندلکے میں

ترے خیال میں ڈوبا تو میں نے کیا دیکھا
افق افق ہے سحر شام کے دھندلکے میں

کوئی چراغ بکف آ رہا ہے میری طرف
یہ خواب ہے کہ خبر شام کے دھندلکے میں

لیاقت علی عاصم

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button