ابنِ صفیاردو غزلیاتشعر و شاعری

ذہن سے دل کا بار اترا ہے

ابن صفی کی ایک اردو غزل

ذہن سے دل کا بار اترا ہے
پیرہن تار تار اترا ہے

ڈوب جانے کی لذتیں مت پوچھ
کون ایسے میں پار اترا ہے

ترک مے کر کے بھی بہت پچھتائے
مدتوں میں خمار اترا ہے

دیکھ کر میرا دشت تنہائی
رنگ روئے بہار اترا ہے

پچھلی شب چاند میرے ساغر میں
پے بہ پے بار بار اترا ہے

ابنِ صفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button