- Advertisement -

ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل

Aik dhundho hazaar baithe hain
Log to beshumaar baithe hain

ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
لوگ تو بے شمار بیٹھے ہیں

Ham sitaron ko dekhnay k liey
Apni ankhen utaar baithe haen

ہم ستاروں کو دیکھنے کے لیے
اپنی آنکھیں اتار بیٹھے ہیں

Asmano pay kijiey parwaz
Jab talak khaaksaar baithe hain

آسمانوں پہ کیجئیے پرواز
جب تلک خاکسار بیٹھے ہیں

Vo bhi maayus ho chuka khud se
Hum bhi umeed haar baithe hain

وہ بھی مایوس ہو چکا خود سے
ہم بھی امید ہار بیٹھے ہیں

Jis ko kehtay haen zindagi jyoti
Rafta rafta guzar baithe haen

جس کو کہتے ہیں زندگی جیوتی
رفتہ رفتہ گزار بیٹھے ہیں

جیوتی آزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل