- Advertisement -

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو

حسیب بشر کی ایک غزل

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو
آگیا دربدر بکھرنے کو

یہ زمانہ ہے تیری جستجو کا
زندگی ہے ابھی بچھڑنے کو

طاقچے میں پڑا ہوا ہوں میں
لَو پریشاں ہوئی نکھرنے کو

عشق بازار بھی ہوا ہے بند
اور مرے پاس کیا تھا کرنے کو

عالم شوق ہے یا جستجو ہے
تیرا ملنا ہے پھر بچھڑنے کو

میں کسے اب ہنر دکھاؤں حسیب
کوئی زندہ رہا نہ مرنے کو

حسیب بشر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حسیب بشر کی ایک غزل