مٹی، روشنی اور باطن کی ہریاول کا شاعر۔۔۔ رشید حسرتؔ
بلوچستان کی اس خاموش مگر باوقار سرزمین پر، جہاں پہاڑ صدیوں سے اپنے اندر گم شدہ زمانوں کی آوازیں سنبھالے بیٹھے ہیں، لفظ جب جنم لیتے ہیں تو اُن میں مٹی کی خوشبو، ہوا کی سنجیدگی اور پہاڑوں کی دیرپا تنہائی سب ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کی سنگلاخ زمین بھی جب کسی فنکار کے دل پر اترتی ہے تو اس میں ایک ایسی گہری روشنی جاگتی ہے جو دکھوں کے اندھیرے میں بھی بجھتی نہیں۔ اسی سرزمین سے ایک ایسی آواز اُبھری ہے جس نے لفظ کو وقار دیا، جذبے کو نرمی اور فکر کو روشنی۔ یہ آواز پروفیسر رشید حسرتؔ کی ہے، وہ استاد بھی ہیں، سخنور بھی اور اپنے عہد کے فکری اندھیروں میں چراغ
رکھنے والے اُن خاموش مسافروں میں سے بھی جو راستہ خود نہیں پاتے مگر دوسروں کے لئے روشن کر جاتے ہیں۔ ان کا چھٹا شعری مجموعہ”پیلی دھوپ”محض غزلوں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک شاعر کے پورے اندرونی سفر کی روداد ہے، درد کی دھیمی تپش، دعا کی لرزتی ہوئی حرارت، باطن کی ہریاول اور زندگی کے گزرے ہوئے موسموں کا خاموش اعتراف۔
رشید حسرتؔ کے فن کا پہلا تاثر سادگی ہے، وہ سادگی جو کسی کمی سے نہیں بلکہ اندرونی ہریاول سے جنم لیتی ہے۔ ان کے ہاں دکھاوا نہیں، بناوٹ نہیں، اُن کا باطن اُن کے لفظوں میں چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اپنے ظاہر و باطن کی اس دوہری کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
حسرتؔ کو بڑا خشک مزاج آپ نے پایا
اوپر سے بڑے خشک ہیں اندر سے ہرے ہم
یہ ہریاول ان کے فن کی گہرائی ہے۔کبھی دعا بن کر، کبھی درد کی مہربان آنچ بن کر، کبھی فکری تازگی، کبھی انسان دوستی کی نرم بارش بن کر۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے دل کے اندر کہیں ایک چراغ آہستہ آہستہ روشن ہو رہا ہو۔
ان کی شاعری خالقِ کائنات کی تعریف سے شروع ہوتی ہے مگر روایتی عقیدت سے آگے بڑھ کر انسان کی اپنی بے بسی کا اعتراف بن جاتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسانی کوشش کی ایک حد ہے اور وہی حد انہیں عاجز بناتی ہے مگر یہی عاجزی ان کے فن کو بلند بھی کرتی ہے:
کمال کوئی کہاں ہے حقیر بندے میں
اثر جو شعر میں ہے وہ تو معجزاتی ہے
یہ معجزہ دراصل اُن کی اندرونی سچائی کا معجزہ ہے، کسی دعوے یا تصنع کا نہیں۔ اس داخلی روشنی کا عکس اُن کی نعت میں بھی اترتا ہے جہاں شاعر کی دعا نم ہو کر لفظوں پر بیٹھتی ہے:
مری دعا ہے کہ تعبیر جلد مل جائے
مدینہ جانے کا اے دوست خواب جن کا ہے
یہ نعت نہیں، دل کی ایک لرزتی ہوئی سسکی ہے، فن کے آگے جھکا ہوا انسان۔
رشید حسرتؔ کے یہاں غم صرف ذاتی نہیں، ایک تہذیبی ورثہ بھی ہے۔
ان کا دکھ احتجاج نہیں بنتا، صبر کی تہذیب اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے اندر ایک ایسی خاموش آنچ سلگتی ہے جو شعر کو وقار عطا کرتی ہے۔ بیٹی کی وفات پر کہے گئے ان کے اشعار اس درد کے وقار کی بہترین مثال ہیں:
ابتدا بھی خاک اپنی، انتہا بھی خاک ہے
کیا کہوں، انسان کیا ہے؟ بس خس و خاشاک ہے
ایک مدت تک رفو کرتا رہا ہوں زخمِ دل
آج سینہ چاک ہے، اپنا گریباں چاک ہے
یہ وہ صبر ہے جس میں لرزش چھپی رہتی ہے مگر چیخ نہیں نکلتی۔ ایسے اشعار بتاتے ہیں کہ فنکار کا دل کتنا وسیع، کتنا زخمی اور کتنا روشن ہے۔
رشید حسرتؔ کی غزل کا پہلو سب سے دل آویز ہے۔ ان کے ہاں سادگی ہے مگر اس میں حیرانی، محبت ہے مگر اس میں تھکن، طنز ہے مگر اس میں نرمی، سیاست ہے مگر اس میں احتجاج کا شور نہیں، صرف حقیقت کی دھیمی چبھن۔ مثلاً عشق کی شکستگی کو یوں بیان کرتے ہیں:
دل تو پہلو میں کبھی تھا ہی نہیں
تم خریدو گے تو سر بیچنا ہے
یا انسانی تھکن کی نہایت لطیف تصویر دیکھیے:
مجھے گلوں کی لطافت سے اختلاف نہیں
بجھا بجھا سا ہے چہرہ مہک کے پار کہیں
یہ نگاہ ہر شاعر کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ یہ کم گو فنکار کی گہری بصیرت ہے۔
وہ اپنی شہرت گریزی کو بھی ایک کھری سادگی میں بیان کرتے ہیں:
وہ اور کوئی ہوں گے جو شہرت پہ مٹے ہیں
ہم اور ہی ڈھب کے ہیں سو رہتے ہیں پرے ہم
یہی "پرے رہنا” ان کے فن کو زیادہ معتبر بناتا ہے کیونکہ اصل فنکار ہجوم سے نہیں، تنہائی اور سچائی سے جیتا ہے۔
رشید حسرتؔ سیاست کے شہری شاعر نہیں، مگر زمانے کی ناانصافی ان کے دل سے ٹکراتی ہے اور شعر بن جاتی ہے۔ ان کا احتجاج نرم ہے مگر سچا، پرنور ہے مگر چیخ نہیں:
جرمِ یکساں پہ غریبوں کو سزا دے قانون
چھوٹ دیتا ہے امیروں کو یہ ترمیم کے ساتھ
یا طاقت کے ظلم پر ان کا کرب دیکھیے:
سب یزیدوں نے یہاں مل کر کیا ہے فیصلہ
کربلا ترسے گا پھر اک بوند پانی کے لیے
یہ اشعار احتجاج نہیں، زمانے کا زخم ہیں، انسانی ذہن کی تھکن اور انصاف کی بھوک۔
رشید حسرتؔ رومان کے شاعر ضرور ہیں مگر اُن کا رومان جشن نہیں، سفر ہے۔ خوشبو نہیں، خاک ہے۔ وصل نہیں، انتظار کا بوجھ ہے۔
عشق لپٹا ہی سارا خساروں میں ہے
فائدہ کیا ہوا گر خسارے گئے
یا:
تمہارے بعد یہ جیون تھا آگ کا دریا
نہ پوچھ کتنی مشقت سے پار ہم نے کیا
یہ غمِ عشق نہیں، غمِ زیست ہے جس میں محبت بھی شامل ہے اور زندگی کی تھکن بھی۔
ان کا تخیل کبھی کائنات کی وسعتوں میں اڑان بھرتا ہے، کبھی زمین کی دھول میں بیٹھ کر درد شمار کرتا ہے:
ہم بھی وہاں تھے سیر کو، ثاقب شہاب بھی
اُس کو ہٹا کے کہکشاں نے راستہ دیا
یہ صرف خیال نہیں، ایک باطنی پرواز ہے، شاعر کا وجدان۔
انسان اپنی پوری ٹوٹ پھوٹ، تنہائی، زخم اور امید کے ساتھ ان کی شاعری کا مرکز ہے:
ہم سخت مرحلوں سے گزارے گئے ہوئے
اپنے ہی ساتھ جنگ میں مارے گئے ہوئے
یہ انسان دوستی ان کے فن کی اصل روشنی ہے، وہ روشنی جو دکھ میں بھی موجود رہتی ہے۔ یہ کتاب محض غزلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زمانہ ہے، ایک وجود ہے، ایک دل کی مسلسل دھڑکن ہے۔ اس میں امید بھی ہے اور رنج بھی، تھکن بھی اور روشنی بھی، انسانیت بھی اور شعری وقار بھی۔
آخر میں وہ اپنے فن کا نچوڑ یوں بیان کرتے ہیں:
زہر پیالہ پیا مسکراتے ہوئے
اک صفت مشترک مجھ میں، سقراطؔ میں
یہ مسکراہٹ ہی ان کی پہچان ہے۔ درد میں بھی وقار، تکلیف میں بھی روشنی، خاموشی میں بھی اخلاق، اور لفظ میں بھی انسانیت۔
رشید حسرتؔ ہمارے عہد کے اُن شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا فن "پیلی دھوپ” کی طرح نرم بھی ہے، گرم بھی اور دیرپا بھی۔
آئیے، اب اس پیلی دھوپ کی روشنی میں، رشید حسرتؔ کے چند اور اشعار کے لمس میں خود کو بھیگنے دیتے ہیں۔
ارمان کئی سینے میں دفنائے ہوئے ہم
بستی میں تری لوٹ کے پھر آئے ہوئے ہم
تو اگر مجھ سے ہے وابستہ تو اظہار بھی کر
منہ سے مانگی ہوئی، چاہت نہ ہوئی، بھیک ہوئی
پھر سماعت میں پرانی یاد کی پائل بجی
شہ مریدیؔ درد جاگا ایک ہانیؔ کے لیے
بہت دنوں سے یہ چھپ چھپ کے وار کرتا ہے
صفایہ سانپ کا اے آستین کیسے کریں؟
بریدا سر تھے مرے خواب جو ٹھکانے لگے
ابھی سے لوگ بہت انگلیاں اٹھانے لگے
اسی اک شخص کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی ہے
ہٹاتا ہی نہ تھا جو سر مرے شانے سے پہلے
جو جتنا اٹھا پائے کوئی ٹوک نہیں ہے
ہوں مالِ غنیمت، کوئی سامان پڑا ہوں
ناؤ احساس کی ڈگمگا سی گئی
اور ہاتھوں سے ندیا کے دھارے گئے
ابھی باقی ہے اس کے دل میں تنگی
اگرچہ گھر کشادہ کر لیا ہے
اتنے عرصے میں مری آہیں رہیں کیوں بے اثر
درد بن کر دوست کے دل میں سمونا چاہیے
یہ پردیس میں تیرے کام تو آئیں گی
سونی آنکھیں، سپنے، بانہیں، لیتا جا
دیا ہے میرا جو ساتھ تم نے، صراحی تم نے
تو کیسے بے اعتنائی دوں گا، جدائی دوں گا
کہا یہ موسیٰؔ سے حق نے کلام کرتے ہوئے
تمہاری ماں نہیں زندہ، سنبھل کے بات کرو
کاش اک روز ہمیں ساتھ بھی دیکھا جاتا
ہم چلے جاتے ہیں پھر اپنے نصیب آتے ہیں
اور تو کچھ بھی محبت سے مجھے کیا لینا
میری وابستگی رہتی ہے فقط میم کے ساتھ
نکال پھینکا جو معمول سے تمہیں ہم نے
اسی طرح سے نکالیں گے زندگی سے بھی
فساد ویسے بھی انسانیت کے حق میں نہیں
ورنہ آج کے ہیں لوگ دیکھے بھالے ہوئے
کیا تھا جس نے بھی دعویٰ، غلط نکل آیا
مگر یہ سچ ہے کہ ہمدرد اپنے چھالے ہوئے
جنوں میں کوئی بھی شئے پاس کب رہی اپنے
رہا گریباں، سو وہ تار تار ہم نے کیا
رواج زخم لگانے کا ہے یہاں رائج
ستم تو یہ ہے کہ قدغن بھی اندمال پہ ہے
مبادہ لوگ اثر گفتگو کا لینے لگیں
وہ نفرتوں کی کرے بات کس محبت سے
مری سرشت میں دھوکہ نہیں ہے، اس کی ہے
ہر ایک شخص ہے مجبور اپنی فطرت سے
جو دور ورہ کے بھی اتنی دعائیں دیتا ہے
قریب ہو گا تو وہ شخص کیا نہیں دے گا
تو اپنی سوچ، مُڑ کے نہیں دیکھ اِس طرف
گھر میرا تیرے بعد جو ویران ہے تو ہے
جب چل پڑے تو راہ کی دشواریوں کا کیا؟
جنگل ہے بیچ، راستہ سُنسان ہے تو ہے
وہ خوف شہر پہ طاری، کہ جسم ڈھانچہ ہیں
لہو کی بوند تلک اب کسی بھی نس میں نہیں
کیا ہے دل سے یہ سودا تو کیسا پچھتاوا؟
زمین لی تو، مگر آسمان دے کے گیا
وہ رخت و ساز میں رکھتا تھا اپنے ہجرت بھی
ہزار طرح کے وہم و گمان دے کے گیا
آپ نے اچھا کیا جو آج اپنایا ہمیں
ورنہ وہ تو بیچ دیتے، سب جواری لوگ تھے
اپنے لہجے پہ کبھی غور کیا ہے تم نے
آگ بھرنے کو بہت ہے یہ کھڑے پانی میں
آرزو سہل مگر اس کا نتیجہ توبہ
مشکلات کتنی چھپی رہتی ہیں آسانی میں
ڈوبنے سے اگر بچا لے گا
بول پیراک دام کیا لے گا
ایسے رفتار کم رکھو گے اگر
پھر لٹیرا تو ہم کو آ لے گا
زمانہ آخری ہے قول کے قربان جاؤں میں
کوئی کم ظرف، اہلِ ظرف کے درجے بناتا ہے
آئیں کہاں سے لہجے میں یہ سرد مہریاں
حائل ہے کیسی بیچ میں دیوار، کچھ کہو
حسرتؔ کھڑے ہیں رنج قطاروں میں چار سو
کب تک رہو گے برسرِ پیکار، کچھ کہو
کیا دور کہ انسان کا فقدان پڑا ہے
دستار اٹھا لائے ہیں، سر ہے تو بتاؤ
ممکن ہے کوئی اس کا نکل آئے تدارک
دل خوف سے بے تاب ہے، ڈر ہے تو بتاؤ
پِنگھوڑے میں جسے دیکھا تھا تُو نے
ترے قد کے برابر ہو گیا ہے
ہم تم مزدوروں کی صف میں ہوتے ہیں شامل
قیدی بن کر رہ جاتے ہیں جاگیروں میں خواب
آیا سندیس وہ ملنے کے لیے آئے گا
سو شکستہ در و دیوار سجانا ہے مجھے
بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے
بقا بلوچ
سیاہ آف
18 نومبر 2025






