- Advertisement -

کالا بھوت

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

کالا بھوت

جیسے کوئلے کے نطفے سے جنم لیا ہو
ایک جہنمی درجۂ حرارت پر رہتے ہوئے
اُس کا کام
دہکتی بھٹی میں کوئلے جھونکتے رہنا تھا
اُس کے بدلے
اُس کو اُجرت بھی زیادہ ملتی تھی
اور خوراک بھی خصوصی
اور ایک وقت میں چار گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جاتا تھا
لیکن شاید اس کو یہ نہیں معلوم
کہ خود کشی کے اس معاہدے پر
اُس نے
بقائمی ہوش و حواس دستخط کئے ہیں
اس بھٹی کا ایندھن دَراصل وہ خود ہے!

پروین شاکر 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
پروین شاکر کی ایک اردو نظم