- Advertisement -

Jadein

An Afsaana By Ismat Chughtai

جڑیں

سب کے چہرے فق تھے گھر میں کھانا بھی نہ پکا تھا۔ آج چھٹا روز تھا۔ بچے اسکول چھوڑے گھروں میں بیٹھے اپنی اور سارے گھر والوں کی زندگی وبال کیے دے رہے تھے۔ وہی مارکٹائی، دھول دھپا، وہی اودھم اور قلابازیاں جیسے ۱۵اگست آیا ہی نہ ہو۔ کمبختوں کو یہ بھی خیال نہیں کہ انگریز چلے گیے اور چلتے چلتے ایسا گہرا گھاؤ مار گیے جو برسوں رسے گا۔ ہندوستان پر عمل جراحی کچھ ایسے لنجے ہاتھوں اور گھٹل نشتروں سے ہوا ہے کہ ہزاروں شریانیں کٹ گئی ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ کسی میں اتنی سکت نہیں کہ ٹانکہ لگا سکے۔

کوئی اور معمولی دن ہوتا تو کمبختوں سے کہا جاتا باہر کا لا منہ کر کے غدر مچاؤ لیکن چند روز سے شہر کی فضا ایسی غلیظ ہو رہی تھی کہ شہر کے سارے مسلمان ایک طرح سے نظر بند بیٹھے تھے۔ گھروں میں تالے پڑے تھے اور باہر پولیس کا پہرا تھا۔ لہٰذا کلیجے کے ٹکڑوں کو سینے پر کودوں دلنے کے لیےچھوڑ دیا گیا۔ ویسے سول لائنس میں امن ہی تھا جیسا کہ عام طور پر رہتا ہے یہ تو گندگی وہیں زیادہ اچھلتی ہے جہاں چھ بچے ہوتے ہیں۔ جہاں غربت ہوتی ہے۔ وہیں جہالت کے گھورے پر نام نہاد مذہب کے ڈھیر بجبجاتے ہیں اور یہ ڈھیر کر یدے جا چکے تھے۔ اوپر سے پنجاب سے آنے والوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی تعداد اقلیت کے دل میں دہشت بٹھا رہی تھی۔ غلاظت کے ڈھیر تیزی سے کریدے جا رہے تھے ۔عفونت رینگتی رینگتی صاف ستھری سڑکوں پر پہنچ چکی تھی۔ دوچار جگہ تو کھلم کھلا مظاہرے بھی ہوئے لیکن مارواڑ کی ریاستوں کے ہندو مسلمان کی اس قدر ملتی جلتی معاشرت ہے کہ انھیں نام ،صورت یا لباس سے بھی باہر والے مشکل سے پہچان سکتے ہیں۔ باہر والے اقلیت کے لوگ جو آسانی سے پہچانے جا سکتے تھے وہ تو پندرہ اگست کی بو پاکر ہی پاکستان کی حدود میں کھسک گیے تھے ۔ رہے ریاست کے قدیم باشندے تو نہ ہی ان میں اتنی سمجھ اور نہ ہی ان کی اتنی حیثیت کہ پاکستان اور ہندوستان کا دقیق مسئلہ انھیں کوئی بیٹھ کر سمجھاتا ۔جنھیں سمجھنا تھا وہ سمجھ چکے تھے اور وہ محفوظ ہو چکے تھے، باقی جو یہ سن کر گیے تھے کہ چارسیر کا گیہوں اور چار آنے کی ہاتھ بھر لمبی نان پاؤ ملتی ہے وہ لوٹ رہے تھے۔ کیوں کہ وہاں جا کر انھیں یہ بھی پتہ چلا کہ چار سیر کا گیہوں خرید نے کے لیے ایک روپیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ہاتھ بھر لمبی نان پاؤ کے لیے پوری چونی دینا پڑتی ہے اور یہ روپیہ اٹھنیاں نہ ہی کسی دوکان پر ملیں اور نہ کھیتوں میں اگیں۔ انھیں حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا زندہ رہنے کی تگ و دو۔

لہٰذا جب کھلم کھلا علاقوں سے اقلیت کو نکالنے کی رائے ہوئی تو بڑی مشکل آن پڑی۔ ٹھاکروں نے صاف کہہ دیا کہ صاحب رعایا ایسی گتھی ملی رہتی ہے۔ مسلمانوں کو بین کر نکالنے کے لیے باقاعدہ اسٹاف کی ضرورت ہے جو کہ بیکار زائد خرچ ہے ویسے آپ اگر کوئی ٹکڑے زمین کے شرنارتھیوں کے لیے خریدنا چاہیں تو وہ خالی کر ائے جا سکتے ہیں۔ جانور تو رہتے ہی ہیں۔ جب کہیے جنگل خالی کر دیا جائے۔

اب باقی رہ گیے چند گنے چنے خاندان۔ جو یا تو مہاراجہ کے چیلے چانٹوں میں سے تھے اور جن کے جانے کا سوال نہ تھا یا وہ جو جانے کو تلے بیٹھے تھے۔ بس بستر بندھ رہے تھے۔ ہمارا خاندان بھی اسی فہرست میں آتا تھا۔ جب تک بڑے بھائی اجمیر سے نہ آئے تھے کچھ ایسی جلدی نہ تھی مگر انھوں نے تو آکر بوکھلا ہی دیا۔ پھر بھی کسی نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ وہ تو شاید کسی کے کان پر جوں نہ رینگتی اور برسوں اسباب نہ بندھ چکتا جو اللہ بھلا کرے چھبا میاں کا وہ پینترا نہ چلتے۔ بڑے بھائی تو جانے ہی والے تھے کہہ کہہ کر ہار گیے تھے۔ تو میاں چھبا نے کیا کیا کہ ایک دم اسکول کی دیوار پر ’’پاکستان زندہ باد‘‘ لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ روپ چند جی کے بچوں نے اس کی مخالفت کی اور فوراً بگاڑ کر ’’اکھنڈ ہندوستان‘‘ لکھ دیا۔ نتیجہ یہ کہ چل گیا جوتا اور ایک دوسرے ہی کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی سعی فرمائی گئی، بات بڑھ گئی۔ حتی کہ پولیس بلائی گئی اور جو چند گنتی کے مسلمان بچے تھے۔ انھیں لاری میں بھر کر گھروں کو بھجوا دیا گیا۔

اب سنیے کہ جوں ہی بچے گھر میں آئے ہمیشہ ہیضہ طاعون کے سپرد کرنے والی مائیں مامتا سے بے قرار ہو کر دوڑیں، اور انھیں کلیجے سے لگا لیا گیا۔ اور کوئی دن ہوتا اور روپ چند جی کے بچوں سے چھبا لڑ کر آتا تو دلھن بھابی اس کی وہ جوتیوں سے مرہم پٹی کر تیں کہ توبہ بھلی، اور اٹھا کر انھیں روپ چند جی کے پاس بھیج دیا جاتا کہ پلائے اسے انڈی کا تیل اور کونین کا مکچر۔ کیوں کہ روپ چند جی ہمارے خاندانی ڈاکٹر ہی نہیں ابا کے پرانے دوست تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی دوستی ابا سے، ان کے بیٹیوں کی بھائیوں سے، بہوؤں کی ہماری بھاوجوں سے اور نئی پود کی نئی پود سے آپس میں دانت کاٹی روٹی کی تھی۔ دونوں خاندانوں کی موجودہ تین پیڑھیاں ایک دوسرے سے ایسی گھلی ملی تھیں کہ شبہ بھی نہ تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد اس محبت میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ حالانکہ دونوں خاندانوں میں مسلم لیگی کانگریسی اور مہا سبھائی موجود تھے اور مذہبی اور سیاسی بحثیں بھی جم جم کر ہوتیں مگر ایسے ہی جیسے فٹ بال یا کرکٹ میچ ہوتے ہیں۔ ادھر ابا کانگریسی تھے تو ادھر ڈاکٹر صاحب اور بڑ ےبھائی لیگی تھے، تو ادھر گیان چند مہا سبھائی، ادھر منجھلے بھائی کمیونسٹ تھے تو ادھر گلاب چند سوشلسٹ۔ اور پھر اسی حساب سے مردوں کی بیویاں اور بچے بھی اسی پارٹی کے تھے۔ عام طور پر جب مچیٹا ہوتا تو کانگریس کا پلہ بھاری پڑتا۔ کمیونسٹ سوشلسٹ بھی گالیاں کھاتے، مگر کانگریس میں ہی گھس پڑتے۔ رہ جاتے مہاسبھائی اور لیگی یہ دونوں ہمیشہ ساتھ دیتے۔ گو وہ ایک دوسرے کے دشمن ہوتے۔ پھر بھی دونوں مل کر کانگریس پر حملہ کرتے۔

لیکن ادھر کچھ سال سے مسلم لیگ کا زور بڑھتا گیا اور ادھر مہاسبھا کا۔ کانگریس کا تو بالکل پڑا ہو گیا۔ بڑے بھائی کی سپاہ سالاری میں گھر کی ساری نئی پود سوائے دو ایک غیر جانب دار قسم کے کانگریسیوں کو چھوڑ کر نیشنل گارڈ کی طرح ڈٹ گئی۔ ادھر گیان چند کی سرداری میں سیوک سنگھ کا چھوٹا سا دل ڈٹ گیا۔ مگر دوستی اور محبت میں فتور نہ آیا۔

’’اپنے للو کی شادی تو منی ہی سے کروں گا‘‘ مہاسبھائی گیان چند منی کے لیگی باپ سے کہتے ’’سونے کی پازیب لاؤں گا۔‘‘

’’یار ملمع کی نہ ٹھوک دینا۔‘‘ یعنی بڑے بھائی گیان چند کی ساہو کاری پر حملہ کرتے ہیں۔

اور ادھر نیشنل گارڈ دیواروں پر پاکستان زندہ باد لکھ دیتے اور سیوا سنگھ کا دل اسے بگاڑ کر ’’اکھنڈ ہندستان‘‘ لکھ دیتا۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب پاکستان کا لین دین ایک ہنسنے ہنسانے کا مشغلہ تھا۔

ابا اور روپ چند جی یہ سب کچھ سنتے اور مسکراتے اور سارے ایشیا کو ایک بنانے کے منصوبے باندھنے لگتے۔

اماں اور چاچی سیاست سے دور دھنیے ہلدی اور بیٹیوں کے جہیزوں کی باتیں کیا کرتیں اور بہوئیں ایک دوسرے کے فیشن چرانے کی تاک میں لگی رہتیں۔ نمک مرچ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کے یہاں سے دوائیں بھی منگوائی جاتیں روز۔ کسی کو چھینک آئی اور دوڑا ڈاکٹر صاحب کے پاس یا جہاں کوئی بیمار ہوا اور اماں نے دال بھری روٹی یا دہی بڑے بنوانے شروع کیے اور ڈاکٹر صاحب سے کہلوا دیا کہ کھانا ہو تو آجائیے۔ اب ڈاکٹر صاحب اپنے پوتوں کا ہاتھ پکڑے آن پہونچے۔

چلتے وقت بیوی کہتیں ’’کھانا نہ کھانا سنا!‘‘

’’ہوں تو پھر فیس کیسے وصول کروں۔ دیکھو جی لالہ اور چنی کو بھیج دینا‘‘

’’ہائے رام تمھیں تو لاج بھی نہیں آتی۔‘‘ چاچی بڑ بڑاتیں۔ مزہ تو جب آتا جب کبھی اماں کی طبیعت خراب ہو جاتی۔ اماں کانپ جاتیں۔

’’نا بھئی میں اس مسخرے سے علاج نہیں کراؤں گی۔‘‘ مگر پھر گھر کے ڈاکٹر کو چھوڑ کر کون شہر سے بلانے جاتا۔ لہذا سنتے ہی ڈاکٹر صاحب دوڑے آتے۔

’’اکیلی اکیلی پلاؤ زردے اڑا ؤگی تو آپ بیمار پڑوگی۔‘‘ وہ جلاتے

’’جیسے تم کھاؤ ہو ویسے ہی اوروں کو سمجھتے ہو۔‘‘ اماں پردے کے پیچھے سے بھناتیں۔

’’ارے یہ بیماری کا تو بہانہ ہے۔ بھابی تم ویسے ہی کہلوا دیا کرو۔ میں آجایا کروں گا۔ یہ ڈھونگ کا ہے کو رچاتی ہو۔‘‘ وہ آنکھوں میں شرارت جمع کر کے مسکراتے اور اماں جل کر ہاتھ کھینچ لیتیں اور صلواتیں سناتیں۔ ابا مسکرا کر رہ جاتے۔

ایک مریض کو دیکھنے آتے تو سارے گھر کے مرض اٹھ کھڑے ہوتے، کوئی اپنا پیٹ لیے چلا آ رہا ہے تو کسی کی پھنسی چھل گئی۔ کسی کا کان پک رہا ہے تو کسی کی ناک سوجی ہوئی ہے۔

’’کیا مصیبت ہے ڈپٹی صاحب! ایک آدھ کو زہر دے دوں گا۔ کیا مجھے سلوتری سمجھا ہے کہ دنیا بھر کے جانور ٹوٹ پڑے۔‘‘ وہ مریضوں کو دیکھتے جاتے اور بڑبڑاتے جاتے۔

اور جہاں کوئی نیے بچے کی آمد کی اطلاع ہوئی۔ وہ جملہ سامان تخلیق کو گالیاں دینے لگتے۔

’’ہنہ مفت کا ڈاکٹر ہے۔ پیدا کیے جاؤ کمبخت کے سینے پر کو دوں دلنے کے لیے۔‘‘

مگر جوں ہی درد شروع ہوتا وہ اپنے بر آمدے سے ہمارے برآمدے کے چکر کاٹنے لگتے۔ چیخ چنگھاڑ سے سب کو بوکھلا دیتے۔ محلے ٹولے والیوں کا آنا دشوار، بننے والے باپ کے آتے جاتے تڑاتڑ چپتیں اور جرأت احمقانہ پر پھٹکاریں۔

پرجوں ہی بچے کی پہلی آواز ان کے کان میں پہونچتی وہ برآمدے سے دروازے پر اور دروازے سے کمرے کے اندر آجاتے اور ان کے ساتھ ساتھ ابا بھی باولے ہو کر آ جاتے۔ عورتیں کو ستی پیٹتی پردے میں ہو جاتیں، زچہ کی نبض دیکھ کر وہ اس کی پیٹھ ٹھونکتے ’’واہ میری شیرنی!‘‘ اور بچے کا نال کاٹ کر نہلانا شروع کر دیتے۔ والد صاحب گھبرا گھبرا کر پھوہڑ نرس کا کام انجام دیتے پھر اماں چلانا شروع کر دیتیں۔

’’لو غضب خدا کا۔ یہ مردوئے ہیں کہ زچا خانے میں پلے پڑتے ہیں۔‘‘

اور معاملہ کی نزاکت کو محسوس کر کے دونوں ڈانٹ کھائے ہوئے بچوں کی طرح بھاگتے باہر۔

اور پھر جب ابا کے اوپر فالج کا حملہ ہوا تو روپ چند جی ہاسپٹل سے ریٹائرڈ ہو چکے تھے اور ان کی ساری پریکٹس، ان کے اور ہمارے گھر تک محدود رہ گئی تھی۔ علاج تو اور بھی کئی ڈاکٹر کر رہے تھے مگر نرس کے اور اماں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب ہی جاگتے اور جس وقت سے وہ ابا کو دفنا کر آئے خاندانی محبت کے علاوہ انھیں ذمہ داری کا بھی احساس ہو گیا۔ بچوں کی فیس معاف کرانے اسکول دوڑے جاتے۔ لڑکیوں بالیوں کے جہیز کے لیے گیان چند کا ناطقہ بند رکھتے۔ گھر کا کوئی خاص کام بغیر ڈاکٹر صاحب کی رائے کے نہ ہوتا۔ پچھمی بازو کو تڑ واکر جب دو کمرے بڑھانے کا سوال اٹھا تو ڈاکٹر صاحب ہی کی رائے سے دبا دیا گیا۔

’’اس سے تو اوپر دو کمرے بڑھوا لو‘‘ انھوں نے رائے دی۔ اور اس پر عمل ہوا۔ مجن ایف ۔اے میں سائنس لینے کو تیار نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب جوتا لے کر پل پڑے، معاملہ طے ہو گیا۔ فریدہ میاں سے لڑکر گھر آن بیٹھی۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کا میاں پہنچا اور دوسرے دن اس کی منجھلی بہو شیلا جب بیاہ کر آئی تو دائی کا جھگڑا بھی ختم ہو گیا۔ بیچاری ہسپتال سے بھاگی آتی۔ فیس تو دور کی چیز ہے اوپر سے چھٹے دن کرتا ٹوپی لے کر آتی۔

پر آج جب چھبا لڑ کر آئے تو ان کی ایسی آؤ بھگت ہوئی جیسے مردغازی میدان مار کر آیا ہے۔ سب نے ہی اس کی بہادری کی تفصیل پوچھی اور بہت سی زبانوں کے آگے صرف اماں کی زبان گنگ رہی۔ آج سے نہیں وہ پندرہ اگست سے جب ڈاکٹر صاحب کے گھر پر ترنگا جھنڈا اور اپنے گھر پر لیگ کا جھنڈا لگا تھا۔ اسی دن سے ان کی زبان کو چپ لگ گئی تھی۔ ان دو جھنڈوں کے درمیان میلوں لمبی چوڑی خلیج حائل ہو گئی۔ جس کی بھیانک گہرائی کو وہ اپنی غمگین آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر لرزا کرتیں۔ پھر شرنارتھیوں کا غلبہ ہوا۔ بڑی بہو کے میکے والے بھاول پور سے مال لٹا کر اور بہ مشکل جان بچا کر جب آئے تو خلیج کا دہانہ چوڑا ہو گیا۔ پھر راول پنڈی سے جب نرملا کے سسرال والے نیم مردہ حالت میں آئے تو اس خلیج میں اژدھے پھنکاریں مارنے لگے۔ جب چھوٹی بھابی نے اپنے بچے کا پیٹ دکھانے کو بھیجا تو شیلا بھابی نے جلدی سے نوکر کو بھگادیا۔

اور کسی نے بھی اس معاملے پر بحث مباحثہ نہیں کیا۔ سارے گھر کے مرض ایک دم رک گیے۔ بڑی بھابی تو اپنے ہسٹریا کے دورے بھول کر لپا جھپ اسباب باندھنے لگیں۔

’’میرے ٹرنک کو ہاتھ نہ لگانا‘‘ اماں کی زبان آخر کو کھلی اور سب ہکا بکا رہ گیے۔

’’کیا آپ نہیں جائیں گی۔‘‘ بڑے بھیا ترشی سے بولے۔

’’نوج موئی میں سندھنوں میں مرنے جاؤں۔ اللہ ماریاں۔ بر کے پاجامے پھڑ کاتی پھریں ہیں۔‘‘

’’تو سنجلے کے پاس ڈھاکہ چلی جائیے۔‘‘

’’اے وہ ڈھاکہ کا ہے کو جائیں گی۔ کہیں کی مونڈی کاٹے بنگالی تو چاول ہاتھوں سے لسیٹر لسیٹر کے کھاویں ہیں۔‘‘ سنجھلے کی ساس ممانی بی نے طعنہ دیا۔

’’تو راولپنڈی چلو فریدہ کے یہاں‘‘ خالہ بولیں۔

’’تو بہ میری، اللہ پاک پنجابیوں کے ہاتھوں کسی کی مٹی پلید نہ کرائے۔ مٹ گئی دوزخیوں کی تو زبان بولے ہیں‘‘ آج تو میری کم سخن اماں پٹا پٹ بولیں چلیں۔

’’اے بوا تمہاری تو وہی مثل ہو گئی کہ اونچے کہ نیچے بھیرئیے کے پیڑ تلے، بیٹی تیرا گھر نہ جانو۔ اے بی یہ کٹو گلہری کی طرح غمزہ مستیاں کہ بادشاہ نے بلایا۔ لو بھئی جھم جھم کرتا۔۔۔ ہاتھی بھیجا کہ چک چک یہ تو کالا کالا کہ گھوڑا بھیجا چک چک یہ تو لاتیں جھاڑے کہ۔۔۔۔

باوجود کہ فضا مکدرسی تھی پھر بھی قہقہہ پڑ گیا۔ میری اماں کا منہ اور پھول گیا۔

’’کیا بچوں کی سی باتیں ہو رہی ہیں‘‘ نیشنل گارڈ کے سردار اعلی بولے ’’جن کا سر نہ پیر۔ کیا ارادہ ہے۔ یہاں رہ کر کٹ مریں؟‘‘

’’تم لوگ جاؤ، اب میں کہاں جاؤں گی۔ میرا آخری وقت۔‘‘

’’تو آخری وقت میں کافروں سے گت بنواؤگی؟‘‘ خالہ بی پوٹلیاں گنتی جاتی ہیں اور پوٹلیوں میں سے سونے چاندی کے زیور سے لے کر ہڈیوں کا منجن، سوکھی میتھی اور ملتانی مٹی تک تھی۔ ان چیزوں کو وہ ایسے کلیجے سے لگا کر لے جا رہی تھیں گویا پاکستان کا اسٹر لنگ بیلینس کم ہو جائے گا۔ تین دفعہ بڑے بھائی نے جل کر ان کی پرانے روہڑ کی پوٹلیاں پھینکیں پر وہ ایسی چنگھاڑیں گویا یہ دولت نہ گئی تو پاکستان غریب رہ جائے گا۔ اور مجبورابچوں کے موت میں ڈوبی ہوئی گدیلوں کی روئی کے پلندے باندھنے پڑے۔ برتن بوروں میں بھرے گیے۔ پلنگوں کی پائے پٹیا کھول کر جھلنگوں میں باندھی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جماجمایا گھر ٹیڑھی میڑھی گٹھریوں اور بغچوں میں تبدیل ہو گیا۔

تو سامان کے پیر لگ گیے ہیں اور قلانچیں بھرتا پھرتا ہے۔ ذرا سستا نے کو بیٹھا ہے اور پھر اٹھ کر ناچنے لگے گا۔

پر اماں کا ٹرنک جوں کا توں رکھا رہا۔

’’آپ کا ارادہ یہاں مرنے کا ہے تو کون روک سکتا ہے۔‘‘ بھائی صاحب نے آخر میں کہا۔

اور میری معصوم صورت کی بھولی سی اماں بھٹکتی آنکھوں سے گدلے آسمان کو تکتی رہیں، جیسے وہ خود اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کون مارڈالے گا؟ اور کب؟

’’اماں تو سٹھیا گئی ہیں۔ اس عمر میں عقل ٹھکانے نہیں‘‘ منجھلے بھائی کان میں کھسپسائے۔

’’کیا معلوم انھیں کہ کافروں نے معصوموں پر تو اور ظلم ڈھائے ہیں۔اپنا وطن ہو گا تو جان و مال کا تو اطمینان رہے گا۔‘‘

اگر میری کم سخن اماں کی زبان تیز ہوتی تو وہ ضرور کہتیں ’’اپنا وطن ہے کس چڑیا کا نام؟ لوگو! بتاؤ تو وہ ہے کہاں اپنا وطن، جس مٹی میں جنم لیا جس میں لوٹ پوٹ کر بڑھے پلے، وہی اپنا وطن نہ ہوا تو پھر جہاں چار دن کو جا کر بس جاؤ وہ کیسے اپنا وطن ہوجایے گا۔ اور پھر کون جانے وہاں سے بھی کوئی نکال دے ، کہے جاؤ نیا وطن بساؤ۔ اب یہاں چراغ سحری بنی بیٹھی ہوں، ایک ننھا سا جھونکا آیا اور وطن کا جھگڑا ختم۔ اور یہ وطن اجاڑ نے اور بسانے کا کھیل کچھ دلچسپ بھی تو نہیں۔ ایک دن تھا مغل اپنا وطن چھوڑ کر نیا وطن بسانے آئے تھے۔ آج پھر چلو وطن بسانے، وطن نہ ہوا پیر کی جوتی ہو گئی، ذرا تنگ پڑی اتار پھینکی، دوسری پہن لی۔ مگر وہ خاموش رہیں اور ان کا چہرہ پہلے سے زیادہ تھکا ہوا معلوم ہونے لگا۔ جیسے وہ صدیوں سے وطن کی کھوج میں خاک چھاننے کے بعد تھک کر آن بیٹھی ہوں اور اس تلاش میں خود کو بھی کھو چکی ہوں۔

سر آئے پیر گئے۔ مگر اماں اپنی جگہ پر ایسے جمی رہیں جیسے بڑکے پیڑ کی جڑ آندھی طوفان میں کھڑی رہتی ہے۔

پر جب بیٹے بیٹیاں بہوئیں، داماد، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں پورا کا پورا قافلہ بڑے پھاٹک سے نکل کر پولیس کی نگرانی میں لاریوں میں سوار ہونے لگا تو ان کے کلیجے کے ٹکڑے اڑنے لگے۔ بے چین نظروں سے انھوں نے خلیج کے اس پار بیکسی سے دیکھا۔ سڑک بیچ کا گھر اتنا دور لگا جیسے دور افق پر کوئی سرگرداں بادل کا لکہ۔ روپ چند جی کا بر آمدہ سنسان پڑا تھا۔ دو ایک بار بچے باہر نکلے مگر ہاتھ پکڑ کر واپس گھسیٹ لیے گئے ۔ پر اماں کی آنسو بھری آنکھوں نے ان آنکھوں کو دیکھ لیا جو دروازوں کی جھریوں اور چقوں کے پیچھے نمناک ہو رہی تھیں۔ جب لاریاں دھول اڑا کر قافلے کو لے سدھاریں تو ایک بائیں طرف کی مردہ حس نے سانس لی، دروازہ کھلا اور بوجھل قدموں سے روپ چند جی چوروں کی طرح سامنے کے خالی ڈھنڈھار گھر کو تاکتے نکلے اور تھوڑی دیر تک غبار کے بگولے میں بچھڑی ہوئی صورتوں کو ڈھونڈھتے رہے اور پھر ان کی ناکام نگاہیں مجرمانہ انداز میں، اجڑے دیار میں بھٹکتی ہوئی واپس زمین میں دھنس گئیں۔

جب ساری عمر کی پونجی کو خدا کے رحم و کرم کے حوالے کر کے اماں دھنڈھار صحن میں آ کر کھڑی ہوئیں تو ان کا بوڑھا دل ننھے بچے کی طرح سہم کر کمھلا گیا جیسے چاروں طرف سے بھوت آن کر انھیں دبوچ لیں گے۔ چکرا کر انھوں نے کھمبے کا سہارا لیا۔ سامنے نظر اٹھی تو کلیجہ اچھل کر منہ کو آیا۔ یہی تو وہ کمرہ تھا جسے دولھا کی پیار بھری گود میں لانگ کر آئی تھیں۔ یہیں تو کمسن خوفزدہ آنکھوں والی بھولی سی دلھن کے چاند سے چہرے پر سے گھونگھٹ اٹھا۔ زندگی بھر کی غلامی لکھ دی تھی۔ وہ سامنے بازو کے کمرے میں پہلوٹھی کی بیٹی پیدا ہوئی تھی اور بڑی بیٹی کی یاد ایک دم سے ہوک بن کر کلیجے میں کوند گئی، وہ کونے میں اس کا نال گڑا تھا۔ ایک نہیں دس نال گڑے تھے اور دس روحوں نے یہیں پہلی سانس لی تھی۔ دس گوشت و پوست کی مورتیوں نے، دس انسانوں نے اسی مقدس کمرے میں جنم لیا تھا۔ اس مقدس کوکھ سے جسے آج وہ چھوڑ کر چلے گیے تھے۔ جیسے وہ پرانی کیچلی تھی جسے کانٹوں میں الجھا کر وہ سب سٹاسٹ نکلے چلے گیے۔ امن اور سکون کی تلاش میں۔ روپیہ کے ۴ سیر گیہوں کے پیچھے اور وہ ننھی ننھی ہستیوں کی پیاری آغوں آغوں سے کمرہ اب تک گونج رہا تھا۔ لپک کر وہ کمرے میں گود پھیلا کر دوڑ گئیں، پھر ان کی گود خالی تھی وہ گود جسے سہاگنیں تقدس سے چھو کر ہاتھ کوکھ کو لگاتی تھیں، آج خالی تھی۔ کمرہ بڑا بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ دہشت زدہ ہو کر وہ لوٹ پڑیں مگر چھوٹے ہوئے تخیل کے قدم نہ لوٹا سکیں۔ وہ دوسرے کمرے میں لڑکھڑا گیے۔ یہیں تو زندگی کے ساتھی نے پچاس برس کے نباہ کے بعد منہ موڑا تھا۔ یہیں دروازے کے سامنے کفنائی ہوئی لاش رکھی تھی۔ سارا کنبہ گھیرے کھڑا تھا۔ خوش نصیب تھے وہ جو اپنے پیاروں کی گود میں سدھارے پر زندگی کی ساتھی کو چھوڑ گیے جو آج بے کفنائی ہوئی لاش کی طرح لاوارث پڑی رہ گئی۔ پیروں نے جواب دے دیا اور وہیں بیٹھ گئیں جہاں میت کے سرھانے دس برس ان کپکپاتے ہاتھوں نے چراغ جلایا تھا۔ پر آج چراغ میں تیل نہ تھا اور بتی بھی ختم ہو چکی تھی۔

اور سامنے روپ چند اپنے بر آمدے میں زور زور سے ٹہل رہے تھے گالیاں دے رہے تھے۔ اپنے بیوی بچوں کو، نوکروں کو۔ سرکار کو اور سامنے پھیلی ہوئی بے زبان سڑک کو، اینٹ پتھر کو اور چاقو چھری کو۔ حتی کہ پوری کائنات ان کی گالیوں کی بمباری کے آگے سہمی دبکی بیٹھی تھی۔ اور خاص طور پر اس خالی گھر کو جو سڑک کے اس پار کھڑا ان کا منھ چڑا رہا تھا۔ جیسے خود انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کی اینٹ سے اینٹ ٹکرادی ہو، وہ کوئی چیز اپنے دماغ میں سے جھٹک دینا چاہتے تھے۔ ساری قوتوں کی مدد سے نوچ کر پھینک دینا چاہتے تھے مگر ناکامی سے جھنجلا اٹھتے تھے۔ کینہ کی جڑوں کی طرح جو چیزان کے وجود میں جم چکی تھی وہ اسے پوری طاقت سے کھینچ رہے تھے۔ مگر ساتھ ساتھ جیسے ان کا گوشت کھینچتا چلا آتا ہو، وہ کراہ کر چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ایک دم ان کی گالیاں بند ہو گئیں، ٹہل تھم گئی اور وہ موٹر میں بیٹھ کر چل دیے۔

رات کو جب گلی کے نکڑ پر سناٹا چھا گیا تو پچھلے دروازے سے روپ چند کی بیوی دو تھالیاں اوپر نیچے دھرے چوروں کی طرح داخل ہوئیں۔ دونوں بوڑھی عورتیں خاموش ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئیں۔ زبانیں بند رہیں پر آنکھیں اب کچھ کہہ سن رہی تھیں۔ دونوں تھالیوں کا کھانا جوں کا توں رکھا تھا۔ عورتیں جب کسی کی غیبت کرتی ہیں تو ان کی زبانیں کترنی کی طرح چل نکلتی ہیں۔ پر جہاں جذبات نے حملہ کیا اور منھ میں تالے پڑگیے۔

رات بھر نہ جانے کتنی دیر پریشانیاں اکیلا پاکر شب خون مارتی ہیں۔ نہ جانے راستے ہی میں تو سب نہ ختم ہو جائیں گے۔ آج کل تو اکا دکا نہیں پوری پوری ریلیں کٹ رہی ہیں۔ پچاس برس خون سے سینچ کر کھیتی تیار کی اور آج وہ دیس نکالا لے کر نئی زمین کی تلاش میں افتاں و خیزاں چل پڑی تھی۔ کون جانے نئی زمین ان پودوں کو راس آئے نہ آئے۔ کملا تو نہ جائیں گے۔ یہ غریب الوطن پودے! چھوٹی بہو تو اللہ رکھے ان گنا مہینہ ہے۔ نہ جانے کس جنگل میں زچہ خانہ بنے۔ گھر بار، نوکری، بیوپار سب کچھ چھوڑ کر چل پڑے ہیں۔ نیے وطن میں چیل کوؤں نے کچھ چھوڑا بھی ہو گا۔ یا یہ منہ تکتے ہی لوٹ آئیں گے اور جو لوٹ کر آئیں گے اور جو لوٹ کر آئے تو پھر سے جڑیں پکڑنے کا بھی موقع ملے گا یا نہیں۔ کون جانے یہ بوڑھا ٹھونٹ بہار کے لوٹ آنے تک زندہ بھی رہے گا کہ نہیں۔

گھنٹوں سڑن باولیوں کی طرح دیوار پاکھوں سے لپٹ لپٹ کر نہ جانے کیا بکتی رہیں پھر شل ہو کر پڑ گئیں۔ نیند کہاں؟ ساری رات بوڑھا جسم جوان بیٹیوں کی کٹی پھٹی لاشیں، نو عمر بہوؤں کے برہنہ جلوس اور پوتوں نواسوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھ دیکھ کر تھراتا رہا۔ نہ جانے کب غفلت نے حملہ کر دیا۔

کہ ایک دم ایسا معلوم ہوا کہ دروازے پر دنیا بھر کاغدر ڈھے پڑا ہے۔ جان پیاری نہ سہی پر بنا تیل کا دیا بھی بجھتے وقت کانپ تو اٹھتا ہی ہے اور پھر سیدھی سادی موت ہی کیا بے رحم ہوتی ہے جو اوپر سے وہ انسان کا بھوت بن کر آئے۔ سنا ہے بڑھیوں تک کو بال پکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں۔ یہاں تک کہ کھال چھل کر ہڈیاں جھلک آتی ہیں اور پھر وہیں دنیا کے وہ عذاب نازل ہوتے ہیں جن کے خیال سے دوزخ کے فرشتے بھی زرد پڑ جائیں۔

دستک کی گھن گرج بڑھتی جا رہی تھی۔ ملک الموت کو جلدی پڑی تھی نا! اور پھر آپ سے آپ ساری چٹخنیاں کھل گئیں۔ بتیاں جل اٹھیں جیسے دور کنوئیں کی تہ سے کسی کی آواز آئی۔ شاید بڑا لڑکا پکار رہا تھا۔۔۔ نہیں یہ تو چھوٹے اور سنجھلے کی آواز تھی۔ دوسری دنیا کے معدوم سے کونے سے۔

تو مل گیا سب کو وطن؟ اتنی جلدی؟ سنجھلا، اس کے پیچھے چھوٹا۔ صاف تو کھڑے تھے، گودوں میں بچوں کو اٹھائے بہوئیں۔ پھر ایک دم سے سارا گھر جی اٹھا۔۔۔ ساری روحیں جاگ اٹھیں اور دکھیاری ماں کے گرد جمع ہو گئیں چھوٹے بڑے ہاتھ پیار سے چھونے لگے۔ ایک دم سے خشک ہونٹھ میں ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ نکلیں، وفور مسرت سے سارے حواس تتر بتر ہو کر تاریکی میں بھنور ڈالتے ڈوب گئے۔

جب آنکھ کھلی تو نبض پر جانی پہچانی انگلیاں رینگ رہی تھیں۔

’’ارے بھابھی مجھے ویسے ہی بلا لیا کرو چلا آؤں گا۔ یہ ڈھونگ کا ہے کو رچاتی ہو۔‘‘ روپ چند جی پردے کے پیچھے سے کہہ رہے تھے۔

’’اور بھابی آج تو فیس دلوادو، دیکھو تمہارے نالائق لڑکوں کو لونی جنکشن سے پکڑ کر لایا ہوں۔ بھاگے جاتے تھے بدمعاش کہیں کے۔ پولس سپرنٹنڈنٹ کا بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔‘‘

پھر بوڑھے، ہونٹ میں کونپلیں پھوٹ نکلیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ پھر دو گرم گرم موتی لڑھک کر روپ چند جی کے جھریوں دار ہاتھ پر گر پڑے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
داغ دہلوی کی دلچسپ قصے