- Advertisement -

پُھندنے

ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو

پُھندنے

کوٹھی سے ملحقہ وسیع و عریض باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے ایک بلی نے بچے دیے تھے، جو بِلّا کھا گیا تھا۔ پھر ایک کتیا نے بچے دیے تھے جو بڑے بڑے ہو گئے تھے اور دن رات کوٹھی کے اندر باہر بھونکتے اور گندگی بکھیرتے رہتے تھے۔ ان کو زہر دے دیا گیا۔ ا یک ایک کرکے سب مر گئے تھے۔ ان کی ماں بھی۔ ان کا باپ معلوم نہیں کہاں تھا۔ وہ ہوتا تو اس کی موت بھی یقینی تھی۔ جانے کتنے برس گزر چکے تھے۔ کوٹھی سے ملحقہ باغ کی جھاڑیاں سینکڑوں ہزاروں مرتبہ کتری بیونتی، کاٹی چھانٹی جا چکی تھیں۔ کئی بلیوں اور کتیوں نے ان کے پیچھے بچے دیے تھے جن کا نام و نشان بھی نہ رہا تھا۔ اس کی اکثر بدعادت مرغیاں وہاں انڈے دے دیا کرتی تھیں جن کو ہرصبح اٹھا کر وہ اندر لے جاتی تھی۔ اسی باغ میں کسی آدمی نے ان کی نوجوان ملازمہ کو بڑی بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ اس کے گلے میں اس کا پھندنوں والا سرخ ریشمی ازار بند جو اس نے دو روز پہلے پھیری والے سے آٹھ آنے میں خریدا تھا، پھنسا ہوا تھا۔ اس زور سے قاتل نے پیچ دیے تھے کہ اس کی آنکھیں باہر نکل آئی تھیں۔

اس کو دیکھ کر اس کو اتنا تیز بخار چڑھا تھا کہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ اور شاید ابھی تک بے ہوش تھی۔ لیکن نہیں، ایسا کیوں کر ہوسکتا تھا، اس لیے کہ اس قتل کے دیر بعد مرغیوں نے انڈے، نہ ہی بلیوں نے بچے دیے تھے اور ایک شادی ہوئی تھی۔ کتیا تھی جس کے گلے میں لال دوپٹہ تھا۔ مکیشی۔ جھلمل جھلمل کرتا۔ اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی نہیں تھیں، اندر دھنسی ہوئی تھیں۔ باغ میں بینڈ بجا تھا۔ سرخ وردیوں والے سپاہی آئے تھے جو رنگ برنگی مشکیں بغلوں میں دبا کر منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتے تھے۔ ان کی وردیوں کے ساتھ کئی پھندنے لگے تھے۔ جنھیں اٹھا اٹھا کر لوگ اپنے ازار بندوں میں لگاتے جاتے تھے۔ پر جب صبح ہوئی تھی تو ان کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ سب کو زہر دے دیا گیا تھا۔ دلہن کو جانے کیا سوجھی، کم بخت نے جھاڑیوں کے پیچھے نہیں، اپنے بستر پر صرف ایک بچہ دیا۔ جو بڑا گل گوتھنا، لال پھندنا تھا۔ اس کی ماں مر گئی۔ باپ بھی۔ دونوں کو بچے نے مارا۔ اس کا باپ معلوم نہیں کہاں تھا۔ وہ ہوتا تو اس کی موت بھی ان دونوں کے ساتھ ہوتی۔ سرخ وردیوں والے سپاہی بڑے بڑے پھندنے لٹکائے جانے کہاں غائب ہوئے کہ پھر نہ آئے۔ باغ میں بلے گھومتے تھے، جو اسے گھورتے تھے، اس کو چھیچھڑوں کی بھری ہوئی ٹوکری سمجھتے تھے حالانکہ ٹوکری میں نارنگیاں تھیں۔ ایک دن اس نے اپنی دو نارنگیاں نکال کر آئینے کے سامنے رکھ دیں۔ اس کے پیچھے ہوکے اس نے ان کو دیکھا مگر نظر نہ آئیں۔ اس نے سوچا اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی ہیں۔ مگر وہ اس کے سوچتے سوچتے ہی بڑی ہو گئیں اور اس نے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آتش دان پر رکھ دیں۔ اب کتے بھونکنے لگے۔ نارنگیاں فرش پر لڑھکنے لگیں۔ کوٹھی کے فرش پر اچھلیں، ہر کمرے میں کودیں اور اچھلتی کودتی بڑے بڑے باغوں میں بھاگنے دوڑنے لگیں۔ کتے ان سے کھیلتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے۔ جانے کیا ہوا، ان کتوں میں دو زہر کھا کے مر گئے۔ جو باقی بچے وہ ان کی ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کھا گئی۔ یہ اس نوجوان ملازمہ کی جگہ آئی تھی، جس کو کسی آدمی نے قتل کردیا تھا، گل میں اس کے پھندنوں والے ازار بند کا پھندا ڈال کر۔ اس کی ماں تھی۔ ادھیڑ عمر کی ملازمہ سے عمر میں چھ سات بڑی بڑی۔ اس کی طرح ہٹی کٹی نہیں تھی۔ ہر روز صبح شام موٹر میں سیر کو جاتی تھی۔ اور بدعادت مرغیوں کی طرح دور دراز باغوں میں جھاڑیوں کے پیچھے انڈے دیتی تھی۔ ان کو وہ خود اٹھا کرلاتی تھی نہ ڈرائیور۔ اوملیٹ بناتی تھی۔ جس کے داغ کپڑوں پر پڑ جاتے تھے۔ سوکھ جاتے تو ان کو باغ میں جھاڑیوں کے پیچھے پھینک دیتی تھی جہاں سے چیلیں اٹھا کر لے جاتی تھیں۔ ایک دن اس کی سہیلی آئی۔ پاکستان میل، موٹر نمبر9612 پی ایل بڑی گرمی تھی۔ ڈیڈی پہاڑ پر تھے۔

ممی سیر کرنے گئی ہوئی تھیں۔ پسینے چھوٹ رہے تھے۔ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنا بلاؤز اتارا اور پنکھے کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ اس کے دودھ ابلے ہوئے تھے جو آہستہ آہستہ ٹھنڈے ہو گئے۔ اس کے دودھ ٹھنڈے تھے جو آہستہ آہستہ ابلنے لگے۔ آخر دونوں دودھ ہل ہل کے کنگنے ہو گئے اور کھٹی لسی بن گئی۔ اس سہیلی کا بینڈ بج گیا۔ مگر وہ وردی والے سپاہی پھندنے نچانے نہ آئے۔ اس کی جگہ پیتل کے برتن تھے، چھوٹے اور بڑے، جن سے آوازیں نکلتی تھیں۔ گرجدار اور دھیمی۔ دھیمی اور گرجدار۔ یہ سہیلی جب پھر ملی تو اس نے بتایا کہ وہ بدل گئی ہے۔ سچ مچ بدل گئی تھی۔ اس کے اب دو پیٹ تھے۔ ایک پرانا، دوسرا نیا۔ ایک کے اوپر دوسرا چڑھا ہوا تھا۔ اس کے دودھ پھٹے ہوئے تھے۔ پھر اس کے بھائی کا بینڈ بجا۔ ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ بہت روئی۔ اس کے بھائی نے اس کو بہت دلاسا دیا۔ بیچاری کو اپنی شادی یاد آگئی تھی۔ رات بھر اس کے بھائی اور اس کی دلہن کی لڑائی ہوتی رہی۔ وہ روتی رہی، وہ ہنستا رہا۔ صبح ہوئی تو ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ اس کے بھائی کو دلاسا دینے کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ دلہن کو نہلایا گیا۔ اس کی شلوار میں اس کا لال پھندنوں والا ازار بند پڑا تھا۔ معلوم نہیں یہ دلہن کے گلے میں کیوں نہ باندھا گیا۔ اس کی آنکھیں بہت موٹی تھیں۔ اگر گلا زور سے گھونٹا جاتا تو وہ ذبح کیے ہوئے بکرے کی آنکھوں کی طرح باہر نکل آتیں۔ اور اس کوبہت تیز بخار چڑھتا۔ مگر پہلا تو ابھی تک اترا نہیں۔ ہو سکتا ہے اتر گیا ہو اور یہ نیا بخار ہو جس میں وہ ابھی تک بے ہوش ہے۔ اس کی ماں موٹر ڈرائیوری سیکھ رہی ہے۔ باپ ہوٹل میں رہتا ہے۔ کبھی کبھی آتا ہے اور اپنے لڑکے سے مل کر چلا جاتا ہے۔ لڑکا کبھی کبھی اپنی بیوی کو گھر بلا لیتا ہے۔ ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کو دو تین روز کے بعد کوئی یاد ستاتی ہے تو رونا شروع کردیتی ہے۔ وہ اسے دلاسا دیتا ہے، وہ اسے پچکارتی ہے اور دلہن چلی جاتی ہے۔ اب وہ اور دلہن بھابھی، دونوں سیر کو جاتی ہیں۔ سہیلی بھی، پاکستان میل۔ موٹر نمبر9612پی ایل۔ سیر کرتے کرتے اجنتا جا نکلتی ہیں، جہاں تصویریں بنانے کا کام سکھایا جاتا ہے۔ تصویریں دیکھ کرتینوں تصویر بن جاتے ہیں۔ رنگ ہی رنگ، لال، پیلے، ہرے، نیلے۔ سب کے سب چیخنے والے ہیں۔ ان کو رنگوں کا خالق چپ کراتا ہے۔ اس کے لمبے لمبے بال ہیں۔ سردیوں اور گرمیوں میں اوورٹ کوٹ پہنتا ہے۔ اچھی شکل و صورت کا ہے۔ اندر باہر ہمیشہ کھڑاؤں استعمال کرتا ہے۔ اپنے رنگوں کو چپ کرانے کے بعد خود چیخنا شروع کردیتا ہے۔ اس کو یہ تینوں چپ کراتی ہیں اور بعد میں خود چلانے لگتی ہیں۔ تینوں اجتنا میں مجرد آرٹ کے سینکڑوں نمونے بناتی رہیں۔ ایک کی ہر تصویر میں عورت کے دو پیٹ ہوتے ہیں۔ مختلف رنگوں کے۔ دوسری کی تصویروں میں عورت ادھیڑ عمر کی ہوتی ہے۔ ہٹی کٹی۔ تیسری کی تصویروں میں پھندنے ہی پھندنے۔ ازار بندوں کا گچھا۔ مجرد تصویریں بنتی رہیں۔ مگر تینوں کے دودھ سوکھتے رہے۔ بڑی گرمی تھی، اتنی کہ تینوں پسینے میں شرابور تھیں۔ خس لگے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی انھوں نے اپنے بلاؤز اتارے اور پنکھے کے نیچے کھڑی ہو گئیں۔ پنکھا چلتا رہا۔ دودھوں میں ٹھنڈک پیدا ہوئی نہ گرمی۔ اس کی ممی دوسرے کمرے میں تھی۔ ڈرائیور اس کے بدن سے موبل آئل پونچھ رہا تھا۔ ڈیڈی ہوٹل میں تھا جہاں اس کی لیڈی سٹینوگرافر اس کے ماتھے پر یوڈی کلون مل رہی تھی۔ ایک دن اس کا بھی بینڈ بج گیا۔

اجاڑ باغ پھر بارونق ہو گیا۔ گملوں اور دروازوں کی آرائش اجنتا اسٹوڈیو کے مالک نے کی تھی۔ بڑی بڑی گہری لپ اسٹکیں اس کے بکھرے ہوئے رنگ دیکھ کر اڑ گئیں۔ ایک جو زیادہ سیاہی مائل تھی، اتنی اڑی کہ وہیں گر کراس کی شاگرد ہو گئی۔ اس کے عروسی لباس کا ڈیزائن بھی اس نے تیار کیا تھا۔ اس نے اس کی ہزاروں کی سمتیں پیدا کردی تھیں۔ عین سامنے سے دیکھو تو وہ مختلف رنگ کے ازار بندوں کا بنڈل معلوم ہوتی تھی۔ ذرا ادھر ہٹ جاؤ تو پھلوں کی ٹوکری تھی۔ ایک طرف ہو جاؤ تو کھڑکی پر پڑا ہوا پھلکاری کا پردہ۔ عقب میں چلے جاؤ۔ کچلے ہوئے تربوزوں کا ڈھیر۔ ذرا زاویہ بدل کر دیکھو ٹماٹو ساس سے بھرا ہوا مرتبان۔ اوپر سے دیکھو تو یگانہ آرٹ۔ نیچے سے دیکھو تو میرا جی کی مبہم شاعری۔ فن شناس نگاہیں عش عش کر اٹھیں۔ دولہا اس قدرمتاثر ہوا تھا کہ شادی کے دوسرے روز ہی اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ بھی مجرد آرٹسٹ بن جائے گا۔ چنانچہ اپنی بیوی کے ساتھ وہ اجنتا گیا۔ جہاں انھیں معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہورہی ہے اور وہ چند روز سے اپنی ہونے والی دلہن ہی کے پاس رہتا ہے۔ اس کی ہونے والی دلہن وہی گہرے رنگ کی لپ اسٹک تھی جو دوسری لپ اسٹکوں کے مقابلے میں زیادہ سیاہی مائل تھی۔ شروع شروع میں چند مہینے تک اس کے شوہر کو اس سے اور مجرد آرٹ سے دلچسپی رہی، لیکن جب اجنتا اسٹوڈیو بن ہو گیا اور اس کے مالک کی کہیں سے بھی سن گن نہ ملی تو اس نے نمک کا کاروبار شروع کردیا۔ جو بہت نفع بخش تھا۔ اس کا کاروبار کے دوران میں اس کی ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی۔ جس کے دودھ سوکھے ہوئے نہیں تھے۔ یہ اس کو پسند آگئے۔ بینڈ نہ بجا لیکن شادی ہو گئی۔ پہلی اپنے برش اٹھا کر لے گئی اور الگ رہنے لگی۔ یہ ناچاقی پہلے تو دونوں کے لیے تلخی کا موجب ہوئی لیکن بعد میں ایک عجیب و غریب مٹھاس میں تبدیل ہو گئی۔ اس کی سہیلی نے جو دوسرا شوہر تبدیل کرنے کے بعد سارے یورپ کا چکر لگا کر آئی تھی اور اب دق کی مریض تھی، اس مٹھاس کو کیوبک آرٹ میں پینٹ کیا۔ صاف شفاف چینی کے بے شمار کیوب تھے جو تھوہر کے پودوں کے درمیان اس انداز سے اوپر تلے رکھے تھے کہ ان سے دو شکلیں بن گئیں تھی۔ اس پر شہید کی مکھیاں بیٹھی رس چوس رہی تھیں۔ اس کی دوسری سہیلی نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ جب اس کو یہ المناک خبر ملی تو وہ بے ہوش ہو گئی۔ معلوم نہیں بے ہوشی نئی تھی یا وہی پرانی جو بڑے تیز بخار کے بعد ظہور میں آئی تھی۔ اس کا باپ یوڈی کلون میں تھا۔ جہاں اس کا ہوٹل اس کی لیڈی سٹینو گرافر کا سرسہلاتا تھا۔ اس کی ممی نے گھر کا سارا حساب کتاب ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ کے حوالے کردیا تھا۔ اب اس کو ڈرائیونگ آگئی تھی مگر بہت بیمار ہو گئی تھی۔ مگر پھر بھی اس کو ڈرائیور کے بن ماں کے پلے کا بہت خیال تھا۔ وہ اس کو اپنا موبل آئل پلاتی تھی۔ اس کی بھابھی اور اس کے بھائی کی زندگی بہت ادھیڑ اور ہٹی کٹی ہو گئی تھی۔ دونوں آپس میں بڑے پیار سے ملتے تھے کہ اچانک ایک رات جب کہ ملازمہ اور اس کا بھائی گھر کا حساب کتاب کررہے تھے، اس کی بھابھی نمودار ہوئی، وہ مجرد تھی۔ اس کے ہاتھ میں قلم تھانہ برش۔ لیکن اس نے دونوں کا حساب صاف کردیا۔ صبح کمرے میں سے جمے ہوئے لہو کے دو بڑے بڑے پھندنے نکلے جو اس کی بھابھی کے گلے میں لگا دیے گئے۔ اب وہ قدرے ہوش میں آئی۔ خاوند سے ناچاقی کے باعث اس کی زندگی تلخ ہو کر بعد میں عجیب وغریب مٹھاس میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اس نے اس کو تھوڑا سا تلخ بنانے کی کوشش کی اور شراب پینا شروع کی، مگر ناکام رہی۔ اس لیے کہ مقدار کم تھی۔ اس نے مقدار بڑھا دی حتیٰ کہ وہ اس میں ڈبکیاں لینے لگی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اب غرق ہوئی مگر وہ سطح پر ابھر آتی تھی۔ منہ سے شراب پونچھتی ہوئی اور قہقہے لگاتی ہوئی۔ صبح کو جب اٹھتی تو اسے محسوس ہوتا کہ رات بھر اس کے جم کا ذرہ ذرہ دھاڑیں مار مار کر روتا رہا ہے۔ اس کے وہ سب بچے جو پیدا ہوسکتے تھے، ان قبروں میں جو ان کے لیے بن سکتی تھیں، اس دودھ کے لیے جو ان کا ہو سکتا تھا، بلک بلک کر رو رہے ہیں۔ مگر اس کے دودھ کہاں تھے۔ وہ تو جنگلی بلے پی چکے تھے۔ وہ زیادہ پیتی کہ اتھاہ سمندر میں ڈوب جائے مگر اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔ ذہین تھی۔ پڑی لکھی تھی۔ جنسی موضوعات پر بغیر کسی تصنع کے بے تکلف گفتگو کرتی تھی۔ مردوں کے ساتھ جسمانی رشتہ قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی تھی، مگر پھر بھی کبھی کبھی رات کی تنہائی میں اس کا جی چاہتا تھا کہ اپنی کسی بدعادت مرغی کی طرح جھاڑیوں کے پیچھے جائے اور ایک انڈہ دے آئے۔ بالکل کھوکھلی ہو گئی۔ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا تو اس سے لوگ دور رہنے لگے۔ وہ سمجھ گئی، چنانچہ وہ ان کے پیچھے نہ بھاگی اور اکیلی گھر میں رہنے لگی۔ سگریٹ پر سگریٹ پھونکتی، شراب پیتی اور جانے کیا سوچتی رہتی۔ رات کو بہت کم سوتی تھی۔ کوٹھی کے اردگرد گھومتی رہتی تھی۔ سامنے کوارٹرمیں ڈرائیور کا بن ماں کا بچہ موبل آئل کے لیے روتا رہتا تھا مگر اس کی ماں کے پاس ختم ہو گیا تھا۔ ڈرائیور نے ایکسیڈنٹ کردیا تھا۔ موٹر گیراج میں اور اسکی ماں ہسپتال میں پڑی تھی۔ جہاں اس کی ایک ٹانگ کاٹی جا چکی تھی، دوسری کاٹی جانے والی تھی۔ وہ کبھی کبھی کوارٹر کے اندر جھانک کر دیکھتی تو اس کو محسوس ہوتا کہ اس کے دودھوں کی تلچھت میں ہلکی سی لرزش پیدا ہوئی ہے، مگر اس بدذائقہ سے تو اس کے بچے کے ہونٹ بھی تر نہ ہوتے۔ اس کے بھائی نے کچھ عرصے سے باہر رہنا شروع کردیا تھا۔ آخر ایک دن اس کا خط سوئیٹزرلینڈ سے آیا کہ وہ وہاں اپنا علاج کرا رہا ہے، نرس بہت اچھی ہے۔ ہسپتال سے نکلتے ہی وہ اس سے شادی کرنے والا ہے۔ ادھیڑ عمر کی ہٹی کٹی ملازمہ نے تھوڑا زیور، کچھ نقدی اور بہت سے کپڑے جو اس کی ممی کے تھے، چرائے اور چند روز کے بعد غائب ہو گئی۔ اس کے بعد اس کی ماں آپریشن ناکام ہونے کے باعث ہسپتال میں مر گئی۔ اس کا باپ جنازے میں شامل ہوا۔ اس کے بعد اس نے اس کی صورت نہ دیکھی۔ اب وہ بالکل تنہا تھی۔ جتنے نوکر تھے، اس نے علیحدہ کردیے، ڈرائیور سمیت۔ اس کے بچے کے لیے اس نے ایک آیا رکھ دی۔ کوئی بوجھ سوائے اس کے خیالوں کے باقی نہ رہا تھا۔ کبھی کبھار اگر کوئی اس سے ملنا آتا تو وہ اندر سے چلا اٹھی تھی۔

’’چلے جاؤ۔ جوکوئی بھی تم ہو، چلے جاؤ۔ میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی۔ ‘‘

سیف میں اس کو اپنی ماں کے بے شمار قیمتی زیورات ملے تھے۔ اس کے اپنے بھی تھے جن سے ان کو کوئی رغبت نہ تھی۔ مگر اب وہ رات کو گھنٹوں آئینے کے سامنے ننگی بیٹھ کر یہ تمام زیور اپنے بدن پر سجاتی اور شراب پی کر کن سری آواز میں فحش گانے گاتی تھی۔ آس پاس اور کوئی کوٹھی نہیں تھی اس لے اسے مکمل آزادی تھی۔ اپنے جسم کو تو وہ کئی طریقوں سے ننگا کر چکی تھی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ اپنی روح کو بھی ننگا کردے۔ مگر اس میں وہ زبردست حجاب محسوس کرتی تھی۔ اس حجاب کو دبانے کے لیے صرف ایک ہی طریقہ اس کی سمجھ میں آیا تھا کہ پیے اور خوب پیے اور اس حالت میں اپنے ننگے بدن سے مدد لے۔ مگر یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا کہ وہ آخری حد تک ننگا ہو کر سترپوش ہو گیا تھا۔ تصویریں بنا بنا کر وہ تھک چکی تھی۔ ایک عرصے سے اس کا پینٹنگ کا سامان صندوقچے میں بند پڑا تھا۔ لیکن ایک دن اس نے سب رنگ نکالے اور بڑے بڑے پیالوں میں گھولے۔ تمام برش دھو دھا کر ایک طرف رکھے اور آئینے کے سامنے ننگی کھڑی ہو گئی اور انے جسم پر نئے نئے خدوخال بنانے شروع کیے۔ اس کی یہ کوشش اپنے وجود کو مکمل طور پر عریاں کرنے کی تھی۔ وہ اپنا سا منا حصہ ہی پینٹ کرسکتی تھی۔ دن بھر وہ اس میں مصروف رہی۔ بن کھائے پیے، آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بدن پرمختلف رنگ جماتی اور ٹیڑھے بنگے خطوط بناتی رہی۔ اس کے برش میں اعتماد تھا۔ آدھی رات کے قریب اس نے دور ہٹ کر اپنا بغور جائزہ لے کر اطمینان کا سانس لیا۔ اس کے بعد اس نے تمام زیورات ایک ایک کرکے اپنے رنگوں سے لتھڑے ہوئے جسم پر سجائے اور آئینے میں ایک بار پھر غور سے دیکھا کہ ایک دم آہٹ ہوئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ ایک آدمی چھرا ہاتھ میں لیے، منہ پر ڈھاٹا باندھے کھڑا تھا جیسے حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر جب وہ مڑی تو حملہ آور کے حلق سے چیخ بلند ہوئی۔ چھرا اس کے ہاتھ سے گر پڑا افراتفری کے عالم میں کبھی ادھر کا رخ کیا کبھی ادھر۔ آخر جو رستہ ملا، اس میں سے بھاگ نکلا۔ وہ اس کے پیچھے بھاگی۔ چیختی، پکارتی۔

’’ٹھہرو۔ ٹھہرو میں تم سے کچھ نہیں کہوں گی۔ ٹھہرو!‘‘

مگر چور نے اس کی ایک نہ سنی اور دیوار پھاند کر غائب ہو گیا۔ مایوس ہو کر واپس آئی۔ دروازے کی دہلیز کے پاس چور کا خنجرپڑا تھا۔ اس نے اٹھا لیا اور اندرچلی گئی۔ اچانک اس کی نظریں آئینے سے دو چار ہوئیں۔ جہاں اس کا دل تھا، وہاں اس نے میان نما چمڑے کے رنگ کا خول سا بنایا ہوا تھا۔ اس نے اس پر خنجر رکھ کر دیکھا۔ خول بہت چھوٹا تھا۔ اس نے خنجر پھینک دیا اور بوتل میں سے شراب کے چار پانچ بڑے بڑے گھونٹ پی کر ادھر ٹہلنے لگی۔ وہ کئی بوتلیں خالی کر چکی تھی۔ کھایا کچھ بھی نہیں تھا۔ دیر تک ٹہلنے کے بعد وہ پھر آئینے کے سامنے آئی۔ اس کے گلے میں ازار بند نما گلوبند تھا جس کے بڑے بڑے پھندنے تھے۔ یہ اس نے برش سے بنایا تھا۔ دفعتاً اس کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ گلوبند تنگ ہونے لگا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے گلے کے اندر دھنستا جارہا ہے۔ وہ خاموش کھڑی آئینے میں آنکھیں گاڑی رہی جو اسی رفتار سے باہر نکل رہی تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے چہرے کی تمام رگیں پھولنے لگیں۔ پھر ایک دم سے اس نے چیخ ماری اور اوندھے منہ فرش پر گر پڑی۔

سعادت حسن منٹو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک غزل از نوشی گیلانی