- Advertisement -

مری رہنما تری آنکھ ہے

ایک اردو غزل از منزّہ سیّد

مری رہنما تری آنکھ ہے
مرا زاویہ تری آنکھ ہے

مجھے کیوں نہ خود پہ غرور ہو
مرا آئنہ تری آنکھ ہے

ترے دل کی دنیا میں جانے کا
حسیں راستہ تری آنکھ ہے

مری بہکی نظروں کی رازداں
مرے ساقیا تری آنکھ ہے

نہیں ہے بھٹکنے کا ڈر کوئی
مری رہنما تری آنکھ ہے

مرے دل کو قبضے میں کر لیا
کوئی ساحرہ تری آنکھ ہے

مرا عکس رکھتی ہے ہر گھڑی
بڑی خوشنما تری آنکھ ہے

یہ جو مجھ سے لپٹی ہے روشنی
پسِ مہر و مہ تری آنکھ ہے

مری آنکھ سجدے میں جھک گئی
کوئی بت کدہ تری آنکھ ہے

مجھے ڈوب جانے کا ڈر نہیں
مری ناخدا تری آنکھ ہے

منزّہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل