آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

گِلہ کرنے پہ بھی مَیں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

گِلہ کرنے پہ بھی مَیں اُس گلی کُوچے میں آیا تو؟
غلط انداز نظروں سے اگر وہ مُسکرایا تو؟

بچاتا ہی رہا مَیں لاکھ دامن دُکھ کے کانٹوں سے
خُوشی کو اب ہڑپ کرنے لگی ہے غم کی چھایا تو

مبادہ کھو ہی بیٹھوں سوچ کر یہ باز رہتا ہوں
حقِیقت کُھل بھی سکتی ہے اُسے گر آز مایا تو

اُسے سہلاؤں گا ورنہ کُچل کر مار ڈالوں گا
تُمہارے ناز و عشوؤں پر انا نے سر اُٹھایا تو

مُجھے تسلِیم اُلفت کو محبّت سے بدلتے ہو
صِلہ فرطِ محبّت کا مُسلسل درد پایا تو؟

خُدا نے سُرخرو مُجھ کو کِیا ہے اِمتحانوں میں
چلو میری وفاؤں کو کِسی نے آز مایا تو

وہ خالی ہاتھ ہو بیٹھا ہے دیکھو اپنے مائے سے
اُڑایا مال مستی میں، کمانے کو کمایا تو

تُمہارا اِشتیاق و بے قراری اپنی جا لیکِن
غموں کا اِک سیہ بادل وہ اپنے ساتھ لایا تو؟

چراغِ آرزو کو آج حسرتؔ گُل کِیا آخِر
بڑے دِن تک تمنّا کا دِیا سا ٹِم ٹمایا تو

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button