(انا و عاجزی و عزت)
الجھن کا حل نہیں مل رہا
کس الجھن کا حل۔؟
یعنی دو آپشن ھوں پاس اک آپ کی عزت و عاجزی اور دوسرا آپ کی انا کا تقاضہ
مطلب؟
دیکھوں میں چاہتی ھوں میری ہر کوئ عزت کرے پر میں اپنی انا کے دائرے میں رہنا چاہتی ھوں
عزت اور انا
تمہیں معلوم ھے عزت کس میں ھے؟
کس میں؟
جب انسان انا کو چھوڑ کر عاجزی اختیار کرے۔
پر انا بھی تو بہت پیاری ھے انا آج کے دور میں عاجزی والے بندے کو تو لوگ بیوقوف سمجھتے ہیں۔
کس نے کہا
نہی ۔عاجز بندے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عزت کی خاطر سب سے مخلص رہتا ھے۔
لوگ خود جیسے ھوتے ہیں وہ ویسا ہی دیکھتے۔سنتے۔سوچتے اور کرتے ہیں۔
اب دیکھوں انا کیا ھے؟
خود کو بہتر سے بہترین سمجھنا ۔دوسروں کو کمتر جاننا ۔اور اپنی آنشان میں دوسرے بندے کو رسوا کر دینا
اس انا سے اچھی عاجزی ھے ۔جو رب کی طرف لے کر جاتی ھے۔عاجزی یہ نہی تم خقیر بن جاؤ تم زمین پر بیٹھنا شروع کردو ۔تم اچھا اوڑھنا پہننا ختم کر دو۔تم بلکل معاشرے سے الگ لگو ۔
نہی۔تم بہترین پہنو۔لباس تو انسان کی خوبصورت کو ظاہر کرتا۔خوش خوراک انسان۔کے ذائقے کی پہچان ھوتی ھے۔اچھا کماؤ۔اچھی ذندگی گزارو ۔
عاجزی یہ ھے تم اچھا بولو۔اچھا کرو ۔اچھا پیش آؤ۔اللہ کی عبادت کے ساتھ مخلوق خدا کی خدمت کرو۔احسن طریقے سے گزر بسر کرو۔یہ عاجز بندے کی خوبیاں گردانی جاتی ہیں۔
پر اناپرست انسان ۔
وہ اکیلا رہ جاتا ھے۔جو انساں دوسروں کی تذلیل کرتا رہتا۔خود کو بہتر دوسروں کو کمتر ۔کسی کو محفل میں انا کے چکر میں نظر انداز اور دوسروں کو کچھ نہی سمجھتا وہ آخر اک دن اکیلا رہ جاتا۔لوگ اس سے کنارہ اختیار کر لیتے ہیں ۔اپنی عزت کی خاطر ۔کیونکہ عزت سب کو پیاری ھوتی ھے۔
اور تم انا پرستی کو پسند کرتی ھو۔
انا پرست انسان کسی کا نہی ھوتا خود کا بھی نہی۔
عزت عاجزی میں ھے اور عاجز خدا کا محبوب بندہ ہوتا ھے۔
انا کا وزن بہت بھاری ھوتا ھے اور انساں اسی انا میں ڈوب کر ہلاک ھو جاتا۔
عزت و عاجزی انسان کی شخصیت کو معزز و پر وقار بنا دیتے ہیں۔
اب آگےتمہاری مرضی۔
انا پرست بندے کے لیے یہ کہاوت ہی کافی ھے۔
چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔
انا بھی چار دن کی ھوتی ھے۔پھر اکیلی تنہائ
اور عاجزی و عزت انسان کے جنازے میں ہجوم کی صورت میں اسکے لیے بہترین انسان ھونے کی گواہی و مغفرت۔
اب کیا چننا تمہاری مرضی۔
انا۔عاجزی و عزت۔
صنم فاروق حسین








