آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری
قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا
بن پڑھے جب اس نے خط میرا پھاڑ ہوگا !
میرے مقدر کا ستارہ گردش میں رہتا ہے
میرا بخت، بھی میرا ہونے سے پہلے دھاڑا ہوگا !
جو بھی اس کو دیکھنے دل ہار بیٹھے
جس کو اس نے چایا، وہ کتنا پیارا ہوگا !
اور اپنے دکھ میں کسی کا دل نہیں دکھاتے
ہرموڑ پے لگتا ہے، وہی حادثہ دوبارہ ہوگا !
تم جس کا پوچھتے ہو تو بتا دو تم کو
جو میرا نہ ہوا تم کو لگتا ہے ,تمہارا ہوگا؟
نگار فاطمہ انصاری








