آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

اگر آپ نیک ہیں تو

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی ایک اردو تحریر

Respect People’s Feelings Even If It Doesn’t Mean Anything To You It Could Mean Everything To Them
کہا جاتا ہے کوئی نہایت غریب مسکین آدمی ایک مسجد کے باہر سے گزر رہا تھا اور مسجد میں کوئی پروگرام چل رہا تھا ۔ جس میں علامہ صاحب پورے ولولہ اور جوش سے تقریر کر کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے ۔علامہ صاحب کا عنوان قبر کا عذاب تھا ۔ وہ غریب مسکین مسجد سے باہر کھڑا خاموشی سے یہ تقریر لاوڈ اسپیکر پر سن رہا تھا ۔ جب علامہ صاحب نے بیان ختم کیا تو مسکین نے مسجد کے دروازے کو جھک کر یعنی مسجد کی چوکھٹ کو ہاتھ لگا کر چوما اور ایک سادہ سا جملہ کہا ” ہے تے توں اللہ دا کہار پر تیرے توں چنگی گل کدی نئیں سنی ” ہے تو تو اللہ کا گھر مگر تجھ سے کبھی خیر کی خبر کبھی نہیں سنی ۔ یہ نہایت سادہ انسان کا سادہ سا جملہ تھا ۔ مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے انگلش کے استاذ چوہدری مظفر ؒ نے ہمیں یہ لطیفہ سنانے کے بعد ایک جملہ کہا کہ بیٹا لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ضرور ڈراو مگر اللہ کی محبت ان کے دل میں بساو ۔ جب علما ء ہر بات پر فتوی لگا دیتے ہیں اور ہر بات پر اللہ کا عذاب اللہ کا عذاب کہتے ہیں اور حرام حرام حرام کی گردان کرتے ہیں تو عام سادہ انسان متنفر ہو جاتا ہے اسے نہیں معلوم کہ خدا کون ہے ؟ وہ کیسا ہے ؟ وہ کیا کرے گا ؟ اس کا انداز اس کا اسلوب کیا ہے ؟ آپ لوگ جو بتائیں گے انہوں نے ویسا ہی قبول کرنا ہے ۔ لہذاخدا اور اس کے دین کو ایسا پیش کرنا کہ اس کی مخلوق کو اپنے رب سے محبت ہو جائے ۔ اولیاء اللہ کے ہاں بھی دو طریق رہے ہیں ۔ ایک عذاب الہی کے خوف کا اور دوسراعشق الہی ۔ حضرت حسن بصری ؒ اور حسن رابعہ بصری ایک ہی زمانے کے دو ولی اللہ تھے ۔جبکہ حضرت حسن بصری کا اسلوب خوف الہی تھا اور رابعہ بصری کا عشق الہی ۔ اسی لیے رابعہ بصری کو کسی نے دیکھا کہ ایک ہاتھ میں آگ اور ایک میں پانی لیے جا رہی تھی کہا یہ کیوں کہا جنت کو آگ لگا دوں تا کہ لوگ اس کی لالچ میں عبادت نا کر سکیں اور پانی سے جہنم کی آگ کو بجھا دوں تا کہ کوئی جہنم کے خوف سے عبادت نا کرے ۔ بس میں چاہتی ہوں اگر کوئی خدا کی عبادت کرے تو صرف اس کی محبت میں کرے ۔ اگر آپ نیک ہیں تو رابعہ بصری والا اسلوب اختیار کریں ۔ ایک عام نمازی کو تو یہی اسلوب سوٹ کرتا ہے ۔ اولیا ء اللہ یا علما کرام کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوا کرتی ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کس کو کیسے گائیڈ کرنا ہے ۔ دین اسلام بہت خوبصورت ہے اس کو اپنے مطلب کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش مت کریں ۔ آج لوگ علماء پر الزام لگاتے ہیں ہیں کہ وہ ایسا کرتے حالانکہ ایک عام آدمی اپنی زندگی میں دین کی معلومات میں اضافہ کرنے کی بجائے کم معلومات کو ہی اپنے مطابق مولڈ فولڈ کر کے اپنا مطلب نکال رہا ہوتا ہے ۔ بے عملی بڑھتی جا رہی ہے ۔ اگر کوئی ذرا سی نمازیں پڑھنے لگتا ہے تو وہ متکبر ہو جاتا ہے ۔ جس کو اپنے فرقے بارے چند معلومات آ جاتی ہیں وہ اپنے آپ کو عالم سمجھ کر تبصرے شرع کر دیتا ہے ۔ شیعہ سنی وہابی دیوبندی اہلحدیث کی مباحث سے نکل کر اب قوم رافضی ناصبی کی بحث میں آ گئی ہے ۔ ہر کوئی خدا اور اس کے رسول کو ماننے والا ہے مگر کوئی صحابہ ؒ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے کوئی کسی کو خوامخواہ موازنوں کے آئنہ میں اتار رہا ہے ۔ ایک صحابی کی شان بیان کر کے دوسرے کے ساتھ تقابلی جائزہ کر رہا ہے ۔ علماء کے ان عجیب و غریب عنوانات محض واہ واہ کے چکر میں پوری قوم کو ولجھا رہے ہیں ۔ ایک کمال کا نکتہ پیش کرتا ہوں کہہ کر جوشیلی بات پر داد لینا والا عالم اپنی ذمہ داری بھول گیا ہے اور ایک فالور ہے کہ اندھی تقلید کرتا جا رہا ہے ۔ نت نئے ڈگی ڈگی بجا کر سوشل میڈیا پر آنے والے فتنوں نے پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کیا ہے ۔ اب چراغ لے کر بھی ڈھونڈے سے وہ مسلمان نہیں مل رہا جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کر رہا ہو ۔دوسروں کے حقوق ادا کر رہا ہو ۔ ایک دیہات میں رہنے والے غریب کسان کا گدھا مسجد چلا گیا تو وہاں کے پکے نمازیوں نے ایک تو اسپیکر پر اعلان کر دیا اور گدھے کی بھی خوب دھلائی کی ۔ کسان کو خبر ہوئی تو وہ مسجد کے دروازے کے باہر بیٹھ کر روتے ہوئے انہیں کہنے لگا کہ میرے گدھے کو چھوڑ دیں وہ بے زبان ہے اور جانور ہے دیکھیں اس نہیں پتہ چلا وہ غلطی سے مسجد آ گیا ہے مجھے ہی دیکھ لیں میں کبھی آیاہوں مسجد ۔ میرا وعدہ وہ آئیندہ مسجد نہیں آئے گا ۔ یہ چھوٹا قصہ پورا ایک افسانہ ہے ۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب مجھے وہ بندہ یاد آتا ہے جس نے کہا میں آج پورے چالیس سال بعد مسجد آیا ہوں ۔ ہم نے مارے حیرت کے ،پوچھا بھائی ایسا کیوں ۔ اس نے کہا : میں ایک مرتبہ جوانی میں مسجد گیا تو ایک پکے نمازی بزرگ نے کہا خیر تو ہے آج مسجد کیسے یاد آ گئی ۔ میں وضو کر رہا تھا یہ بات انہوں نے اتنے برے لہجے میں کہی کہ میں نے وہیں وضو چھوڑا اور گھر چلا آیا ۔ اس کے بعد آج آپ کی دعوت پر مسجد آیا ۔ میں نے عنوان میں کہا ہے کہ اگر آپ نیک ہیں تو خدارا کسی دوسرے کی نیکی پر ایسا طنز مت کریں کہ وہ اچھی راہ چھوڑ جائیں ۔ آپ کی نیکیاں آپ کو ہی نفع دیں گی نا تو آپ نیک ہو کر کسی پر احسان کرتے ہیں نا کوئی آپ پر ۔ میرا یقین مانے میں نے ہر جنازے کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی ہی قبر میں خالی ہاتھ جاتا ہے ۔ اگر آپ نیک ہیں تو آپ کا لہجہ بھی نیک ہونا چاہیے ایسا نہیں کہ اپنی نیکیوں پر نازاں ہو کر متکبر ہو جائیں ۔ اگر آپ عالم ہیں تو علم کی قدر کریں کیونکہ سب سے بد ترین تکبر علم کا تکبر ہے ۔ کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے طنزیہ جملے دوسروں کا کتنا نقصان کردیتے ہیں..؟ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں. مختصر خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو نیکی کی دعوت بھی نہایت شائستہ اسلوب میں دیں ۔ اب ہمیں مسجد میں جھاڑو لگانے ، جمعہ کو مسجد کی صفائی کرنے والے بچے نہیں ملتے ۔ یہی وجہ ہے ہر کوئی تو انہیں بری طرح ڈانٹتا ہے کہ میری نماز خراب ہو رہی ہے ۔بچوں کو مسجد میں ڈانٹیں مت ۔ ان کی تربیت کریں اگر ہر کوئی اس اسلوب پر چلے گا تو یقین جانیے ہماری نئی نسل آپ کو مسجد میں نہیں سینما ، تھٹر اور چوک چوراہوں میں ہی ملے گی ۔ علماء فتوے ہی لگاتے رہیں گے تو یہ بچے غیبت اور بد نظری کی مجالس اور جمگھٹوں میں سکون پائیں گے ۔ بس پھر سے یہی کہ اگر آپ نیک ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے نیکی کی توفیق دی تکبر اور غرور سے اپنی نیکیاں ضائع مت کریں ۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب

post bar salamurdu

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

میرا نام ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم ہے۔ میں ایک معلم، محقق، کالم نگار اور مصنف ہوں۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوں اور 2006ء سے باقاعدگی کے ساتھ مختلف سماجی، تعلیمی، اخلاقی، ادبی، فکری اور عوامی موضوعات پر لکھ رہا ہوں۔الحمدللہ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، جبکہ میرے مضامین اور کالم مختلف اخبارات، رسائل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھی معاشرے سے متعلق اہم اور عصری موضوعات پر مسلسل قلمی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں پی ایچ ڈی کا اسکالر بھی ہوں، اور میری کوشش رہتی ہے کہ میری تحریروں میں تحقیق، اعتدال، سادگی اور عوامی افادیت کا امتزاج ہو۔ پنجاب کالج راولپنڈی میں لیکچرر ہوں ،الحمد للہ میرے طلبا اور قارئین کی ایک بڑی تعداد میرے سوشل میڈیا اکاونٹس پر مجھے پڑھتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button